Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3304

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: إِنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رجُلًا أَيَقْتُلُهُ فِيَقْتُلُونَهُ؟ أمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِن أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا،وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أُمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن سهل بن سعد الساعدي قال: إن عويمرا العجلاني قال: يا رسول الله! أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فيقتلونه؟ أم كيف يفعل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "قد أنزل فيك وفي صاحبتك، فاذهب فأت بها" قال سهل: فتلاعنا في المسجد، وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما فرغا قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "انظروا فإن جاءت به أسحم، أدعج العينين، عظيم الأليتين، خدلج الساقين، فلا أحسب عويمرا إلا قد صدق عليها،وإن جاءت به أحيمر كأنه وحرة، فلا أحسب عويمرا إلا قد كذب عليها"، فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم من تصديق عويمر، فكان بعد ينسب إلى أمه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ۱؎یارسول افرمایئے تو ایک شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے ۲؎کیا وہ اسے قتل کردے تو مسلمان اسے قتل کردیں گے ۳؎کیا کرے تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل کر دی گئی ۴؎تم جاؤ اسے لے آؤ ۵؎سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مسجد میں لعان لیا ۶؎میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ زوجین فارغ ہوچکے تو عویمر بولے کہ میں نے اس پر جھوٹ ہی لگایا یارسول ا۷؎اگر اس کو روک رکھوں چنانچہ اسے تین طلاقیں دے دیں ۸؎پھر رسول انے فرمایا لوگو خیال رکھنا اگر وہ عورت جنے بچہ سیاہ رنگ بڑی آنکھ والا بڑے سرین والا بڑی پنڈلیانوالہ تو میں عویمر کو اس عورت پر سچا ہی گمان کرتا ہوں ۹؎اور اگر وہ عورت بچہ جنے سرخ رنگ والا گویا وہ بامنی ہے ۱۰؎تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ ہی بولا ۱۱؎پھر اس عورت نے بچہ اس صفت پر جنا جس پر رسول انے عویمر کو سچا فرمایا تھا پھر وہ بچہ بعد میں اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۱۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سہل ابن سعد کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں، آپ مدینہ منورہ میں آخری صحابی ہیں جو تمام صحابہ سے آخر میں فوت ہوئے،ان کی وفات پر مدینہ سے صحابہ کا دور ختم ہوا،عویمر صحابی ہیں عجلان قبیلہ سے ہیں عجلان انصار کا ایک قبیلہ ہے عجلان ابن زید انصاری کی اولاد۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎یا زنا کرتے ہوئے پائے یا علامات سے معلوم ہو کہ اس نے زنا کیا ہے فارغ ہو کر بیٹھا ہے۔
۳
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںیقتلونیسے ہے یعنی مقتول کے وارث اسے قتل کردیں گے بعض میںتقتلون تسے ہے یعنی اے محبوب پاک آپ اور آپ کے صحابہ اسے قصاصًا قتل کردیں گے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کو اپنی بیوی سے زنا کرتے دیکھے اور اسے قتل کردے تو اسے بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا،ہاں اگر اس زنا پر چار گواہ قائم ہوجائیں اور زانی محصن بھی ہو تو اس قاتل پر قصاص نہیں،یا مقتول کے ولی اس زنا کا اقرار کرلیں تب بھی قصاص نہیں یہ شرعی حکم ہےعند اﷲاس قاتل پر کوئی گناہ نہیں،عویمر نے صاف نہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو زنا کراتے دیکھا بلکہ اشارۃً اگر مگر سے سوال کیا تاکہ حد قذف ان پر جاری نہ ہوجائے۔
۴
؎آیت کریمہ یہ ہے"وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوٰجَہُمْ وَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ شُہَدَآءُ"یہ آیت شعبان ۹ھ؁ ∞ میں نازل ہوئی،یا تو عویمر کے متعلق ہی نازل ہوئی یا ہلال ابن امیہ کے متعلق اتری مگر حق یہ ہے کہ ان دونوں کے واقعات قریب قریب ہوئے ان دونوں پر آیت اتری،پہلے ہلال ابن امیہ نے لعان کیا پھر عویمر نے لہذا یہ درست ہے کہ اسلام میں پہلا لعان ہلال ابن امیہ نے کیا درست ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان کہ تیرے متعلق یہ آیت آگئی یہ بھی درست ہے احادیث میں تعارض نہیں۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ لعان کے وقت دونوں خاوند و بیوی کا حاکم کی کچہری میں حاضر ہونا ضروری ہے بلکہ مسلمانوں کے مجمع میں حاکم کے سامنے لعان چاہیے۔
۶
؎بعد نماز جب مسلمان جمع تھے اس زمانہ پاک میں مسجد ہی کچہری تھی۔
۷
؎یعنی اب میرا اس بیوی کو اپنے پاس رکھنا اپنی تکذیب ہے لہذا میں اسے علیحدہ کرتا ہوں۔
۸
؎اس حدیث کی بنا پر بعض نے فرمایا کہ لعان خودطلاق نہیں،بلکہ اس کے بعد طلاق دینی چاہیے،بعض مالکی حضرات نے فرمایا کہ لعان خود ہی طلاق ہے مگر حاکم کے فیصلہ کے بعد ابھی چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ نہ فرمایا تھا اس لیے ان کی طلاق درست ہوگئی یہ حضرات اس سے ثابت کرتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دے دینا مکروہ بھی نہیں کیونکہ عویمر نے یکدم تین طلاق دیں سرکار نے منع نہ فرمایا مگر حق یہ ہے کہ بعد لعان حاکم کا فیصلہ نکاح ختم کردیتاہے طلاق کی ضرورت ہی نہیں عویمر کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اس لیے انہوں نے طلاقیں دیں۔ لعان والی عورت لعان کے بعد حاکم کے فیصلہ سے بالکل نکاح سے خارج ہوجاتی ہے طلاق کی محل نہیں رہتی اور تا قیام لعان نکاح میں نہیں آسکتی، چنانچه دار قطنی نے بروایت حضرت عمر مرفوعًا حدیث نقل کی کہ فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین جدا ہوچکنے کے بعد کبھی جمع نہیں ہوسکتے صاحب تنقیح نے فرمایا کہ اس کی اسناد جید ہےالمتلاعنان لا یجتمعانبھی وارد ہے۔(فتح القدیر و مرقات)یہاں مرقات نے اس مسئلہ پر بہت سی احادیث پیش فرمائیں کہ لعان خود ہی تفریق ہے مگر حضرت امام اعظم و صاحبین و ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ لعان کے بعد حاکم کی تفریق سے نکاح ختم ہوجاتا ہے لعان خود فسخ نہیں۔
۹
؎کیونکہ جس مرد سے الزام زنا لگایا گیا تھا وہ اسی شکل و صورت کا تھا اور اکثر بچہ با پ کے ہم شکل ہوتا ہے چونکہ یہ ہم شکلی یقینی نہیں اکثری ہے اس لیے اس طرح ارشاد فرمایا کہ ہمارا خیال ہے کہ عویمر کا الزام درست ہے۔
۱۰
؎بامنی ایک چھوٹا سا کیڑا ہے جو سرخ رنگ سانپ کی طرح ہوتا ہے اسے اردو میں سانپ کی خالہ بھی کہتے ہیں بامنی میں نے بھی بارہا دیکھا ہے۔
۱۱
؎کیونکہ عویمر خود پتلے سرخ رنگ والے تھے یہ حکم بھی تخمینی ہے۔
۱۲
؎لعان کا یہ بھی حکم ہے کہ لعان کا بچہ باپ کی میراث نہیں پاتا صرف ماں کی طرف منسوب ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ اس عقیدے کے خلاف نہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں کیونکہ لعان میں کسی کو فاسق نہیں کہاجاسکتا،معاملہ مشکوک رہتا ہے نیز حضرات صحابہ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر کوئی گناہ پر قائم نہیں رہا سب کو بعد میں توبہ کی توفیق ملی ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیافہ یعنی بچہ کی ہم شکلی پر احکام مرتب نہیں ہوتے اس کی بحث آگے ہوگی۔ان شاءالله!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3304