- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3304
باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3304
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: إِنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رجُلًا أَيَقْتُلُهُ فِيَقْتُلُونَهُ؟ أمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِن أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا،وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أُمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن سهل بن سعد الساعدي قال: إن عويمرا العجلاني قال: يا رسول الله! أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فيقتلونه؟ أم كيف يفعل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "قد أنزل فيك وفي صاحبتك، فاذهب فأت بها" قال سهل: فتلاعنا في المسجد، وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما فرغا قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "انظروا فإن جاءت به أسحم، أدعج العينين، عظيم الأليتين، خدلج الساقين، فلا أحسب عويمرا إلا قد صدق عليها،وإن جاءت به أحيمر كأنه وحرة، فلا أحسب عويمرا إلا قد كذب عليها"، فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم من تصديق عويمر، فكان بعد ينسب إلى أمه. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ۱؎یارسول اﷲفرمایئے تو ایک شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے ۲؎کیا وہ اسے قتل کردے تو مسلمان اسے قتل کردیں گے ۳؎کیا کرے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل کر دی گئی ۴؎تم جاؤ اسے لے آؤ ۵؎سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مسجد میں لعان لیا ۶؎میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ زوجین فارغ ہوچکے تو عویمر بولے کہ میں نے اس پر جھوٹ ہی لگایا یارسول اﷲ۷؎اگر اس کو روک رکھوں چنانچہ اسے تین طلاقیں دے دیں ۸؎پھر رسول اﷲنے فرمایا لوگو خیال رکھنا اگر وہ عورت جنے بچہ سیاہ رنگ بڑی آنکھ والا بڑے سرین والا بڑی پنڈلیانوالہ تو میں عویمر کو اس عورت پر سچا ہی گمان کرتا ہوں ۹؎اور اگر وہ عورت بچہ جنے سرخ رنگ والا گویا وہ بامنی ہے ۱۰؎تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ ہی بولا ۱۱؎پھر اس عورت نے بچہ اس صفت پر جنا جس پر رسول اﷲنے عویمر کو سچا فرمایا تھا پھر وہ بچہ بعد میں اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎سہل ابن سعد کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں، آپ مدینہ منورہ میں آخری صحابی ہیں جو تمام صحابہ سے آخر میں فوت ہوئے،ان کی وفات پر مدینہ سے صحابہ کا دور ختم ہوا،عویمر صحابی ہیں عجلان قبیلہ سے ہیں عجلان انصار کا ایک قبیلہ ہے عجلان ابن زید انصاری کی اولاد۔(اشعہ،مرقات)
۲؎یا زنا کرتے ہوئے پائے یا علامات سے معلوم ہو کہ اس نے زنا کیا ہے فارغ ہو کر بیٹھا ہے۔
۳؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںیقتلونیسے ہے یعنی مقتول کے وارث اسے قتل کردیں گے بعض میںتقتلون تسے ہے یعنی اے محبوب پاک آپ اور آپ کے صحابہ اسے قصاصًا قتل کردیں گے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کو اپنی بیوی سے زنا کرتے دیکھے اور اسے قتل کردے تو اسے بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا،ہاں اگر اس زنا پر چار گواہ قائم ہوجائیں اور زانی محصن بھی ہو تو اس قاتل پر قصاص نہیں،یا مقتول کے ولی اس زنا کا اقرار کرلیں تب بھی قصاص نہیں یہ شرعی حکم ہےعند اﷲاس قاتل پر کوئی گناہ نہیں،عویمر نے صاف نہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو زنا کراتے دیکھا بلکہ اشارۃً اگر مگر سے سوال کیا تاکہ حد قذف ان پر جاری نہ ہوجائے۔
۴؎آیت کریمہ یہ ہے"وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوٰجَہُمْ وَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ شُہَدَآءُ"یہ آیت شعبان ۹ھ ∞ میں نازل ہوئی،یا تو عویمر کے متعلق ہی نازل ہوئی یا ہلال ابن امیہ کے متعلق اتری مگر حق یہ ہے کہ ان دونوں کے واقعات قریب قریب ہوئے ان دونوں پر آیت اتری،پہلے ہلال ابن امیہ نے لعان کیا پھر عویمر نے لہذا یہ درست ہے کہ اسلام میں پہلا لعان ہلال ابن امیہ نے کیا درست ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان کہ تیرے متعلق یہ آیت آگئی یہ بھی درست ہے احادیث میں تعارض نہیں۔
۵؎اس سے معلوم ہوا کہ لعان کے وقت دونوں خاوند و بیوی کا حاکم کی کچہری میں حاضر ہونا ضروری ہے بلکہ مسلمانوں کے مجمع میں حاکم کے سامنے لعان چاہیے۔
۶؎بعد نماز جب مسلمان جمع تھے اس زمانہ پاک میں مسجد ہی کچہری تھی۔
۷؎یعنی اب میرا اس بیوی کو اپنے پاس رکھنا اپنی تکذیب ہے لہذا میں اسے علیحدہ کرتا ہوں۔
۸؎اس حدیث کی بنا پر بعض نے فرمایا کہ لعان خودطلاق نہیں،بلکہ اس کے بعد طلاق دینی چاہیے،بعض مالکی حضرات نے فرمایا کہ لعان خود ہی طلاق ہے مگر حاکم کے فیصلہ کے بعد ابھی چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ نہ فرمایا تھا اس لیے ان کی طلاق درست ہوگئی یہ حضرات اس سے ثابت کرتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دے دینا مکروہ بھی نہیں کیونکہ عویمر نے یکدم تین طلاق دیں سرکار نے منع نہ فرمایا مگر حق یہ ہے کہ بعد لعان حاکم کا فیصلہ نکاح ختم کردیتاہے طلاق کی ضرورت ہی نہیں عویمر کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اس لیے انہوں نے طلاقیں دیں۔ لعان والی عورت لعان کے بعد حاکم کے فیصلہ سے بالکل نکاح سے خارج ہوجاتی ہے طلاق کی محل نہیں رہتی اور تا قیام لعان نکاح میں نہیں آسکتی، چنانچه دار قطنی نے بروایت حضرت عمر مرفوعًا حدیث نقل کی کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین جدا ہوچکنے کے بعد کبھی جمع نہیں ہوسکتے صاحب تنقیح نے فرمایا کہ اس کی اسناد جید ہےالمتلاعنان لا یجتمعانبھی وارد ہے۔(فتح القدیر و مرقات)یہاں مرقات نے اس مسئلہ پر بہت سی احادیث پیش فرمائیں کہ لعان خود ہی تفریق ہے مگر حضرت امام اعظم و صاحبین و ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ لعان کے بعد حاکم کی تفریق سے نکاح ختم ہوجاتا ہے لعان خود فسخ نہیں۔
۹؎کیونکہ جس مرد سے الزام زنا لگایا گیا تھا وہ اسی شکل و صورت کا تھا اور اکثر بچہ با پ کے ہم شکل ہوتا ہے چونکہ یہ ہم شکلی یقینی نہیں اکثری ہے اس لیے اس طرح ارشاد فرمایا کہ ہمارا خیال ہے کہ عویمر کا الزام درست ہے۔
۱۰؎بامنی ایک چھوٹا سا کیڑا ہے جو سرخ رنگ سانپ کی طرح ہوتا ہے اسے اردو میں سانپ کی خالہ بھی کہتے ہیں بامنی میں نے بھی بارہا دیکھا ہے۔
۱۱؎کیونکہ عویمر خود پتلے سرخ رنگ والے تھے یہ حکم بھی تخمینی ہے۔
۱۲؎لعان کا یہ بھی حکم ہے کہ لعان کا بچہ باپ کی میراث نہیں پاتا صرف ماں کی طرف منسوب ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ اس عقیدے کے خلاف نہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں کیونکہ لعان میں کسی کو فاسق نہیں کہاجاسکتا،معاملہ مشکوک رہتا ہے نیز حضرات صحابہ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر کوئی گناہ پر قائم نہیں رہا سب کو بعد میں توبہ کی توفیق ملی ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیافہ یعنی بچہ کی ہم شکلی پر احکام مرتب نہیں ہوتے اس کی بحث آگے ہوگی۔ان شاءالله!
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3304