- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3307
باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3307
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْبَيِّنَةَ. أَوْ حَدًّا فِي ظَهْرِكَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْبَيِّنَةَ، وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ" فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللّٰهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ ثُمَّ قَامَتْ، فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ" فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن ابن عباس: أن هلال بن أمية قذف امرأته عند النبي صلى الله عليه وسلم بشريك بن سحماء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "البينة. أو حدا في ظهرك" فقال: يا رسول الله! إذا رأى أحدنا على امرأته رجلا ينطلق يلتمس البينة؟ فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "البينة، وإلا حد في ظهرك" فقال هلال: والذي بعثك بالحق إني لصادق، فلينزلن الله ما يبرئ ظهري من الحد، فنزل جبريل وأنزل عليه: والذين يرمون أزواجهم فقرأ حتى بلغ إن كان من الصادقين، فجاء هلال فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الله يعلم أن أحدكما كاذب، فهل منكما تائب؟ ثم قامت، فشهدت فلما كانت عند الخامسة وقفوها، وقالوا: إنها موجبة قال ابن عباس: فتلكأت ونكصت حتى ظننا أنها ترجع، ثم قالت: لا أفضح قومي سائر اليوم، فمضت، وقال النبي صلى الله عليه وسلم : "أبصروها، فإن جاءت به أكحل العينين، سابغ الأليتين، خدلج الساقين، فهو لشريك بن سحماء" فجاءت به كذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم "لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شأن". رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ہلال ابن امیہ نے ۱؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک اپنی بیوی کو شریک ابن سحماء سے تہمت لگائی ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہ لاؤ یا تمہاری پیٹھ میں سزا ہے ۳؎وہ بولے یارسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا پھرے ۴؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرمانے لگے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ میں سزا ہوگی ۵؎ہلال بولے اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں سچا ہوں تو اﷲتعالٰی ضرور وہ آیات اتارے گا جو میری پیٹھ کو سزا سے بچالیں گی ۶؎اتنے میں جبرئیل اترے اور آپ پر یہ آیت اتاری ۷؎اور وہ لوگ جو الزام لگائیں اپنی بیویوں کو،پھر پڑھی حتی کہان کان من الصادقینتک پہنچ گئے پھر ہلال آئے گواہی دی۸؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ یقینًا اﷲجانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرلے گا۹؎پھر عورت کھڑی ہوئی پس گواہی دی جب پانچویں پر پہنچی ۱۰؎تو لوگوں نے اسے ٹھہرالیا اور بولے کہ یہ واجب کرنے والی ہے ۱۱؎ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ کچھ ٹھہری اور لوٹی حتی کہ ہم نے گمان کر لیا کہ یہ رجوع کرلے گی ۱۲؎پھر بولی میں اپنی قوم کو کبھی رسوا نہ کروں گی پھر گزر گئی ۱۳؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے دیکھنا اگر یہ سرمگیں آنکھوں والا بھرے چوتڑوں والا پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک ابن سحماء کا ہے ۱۴؎پھر وہ ایسا بچہ لائی فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر قرآن کا وہ حکم جو گزر گیا نہ ہوتا ۱۵؎تو میرا اور اس عورت کا کچھ حال ہوتا ۱۶؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ہلال ابن امیہ وہ ہی صحابی ہیں جو حضرت کعب ابن مالک کے ساتھ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔یہ تین حضرات کعب ابن مالک،ہلال ابن امیہ،مرارہ ابن لوی،ان تین صاحبوں کی توبہ کا ذکر سورہ توبہ میں ہے"وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا"الایہ۔
۲؎حضرت شریک انصار کے حلیف تھےسحماءان کی والدہ کا نام ہے آپ اپنی ماں کی نسبت سے مشہور ہیں جیسے عبداﷲابن ام مکتوم اسلام میں یہ پہلا واقعہ ہوا اور یہ لعان بھی پہلا لعان تھا۔اسی واقعہ پر آیت لعان نازل ہوئی۔
۳؎یعنی یا تو چار گواہ عینی پیش کرو جنہوں نے تمہاری بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہو ورنہ تم کو حد قذف اسی۸۰ کوڑے مارے جائیں گے۔
۴؎خلاصہ یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی پر کسی کو دیکھے تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ چار گواہ جمع کرلے اور انہیں اس حالت کا مشاہدہ کرائے یہ تکلیف طاقت سے زیادہ ہے۔
۵؎سرکار عالی کا یہ فرمان قرآن کی اس آیت کی بنا پر ہے کہ زنا کے لیے چار گواہ پیش کیے جائیں،ورنہ الزام لگانے والے کو تہمت کی سزا اسی کوڑے لگائی جائے یہ پابندی اس لیے ہے تاکہ لوگ تہمت زنا میں دلیر نہ ہوجائیں۔چونکہ ابھی لعان کے احکام آئے نہ تھے اس لیے فرمایا گیا۔
۶؎یہ ہے مؤمن کی فراست کہ آئندہ آنے والے احکام کے متعلق قسم کھالی کہ ایسے احکام ضرور نازل ہوں گے لطف یہ ہے کہان شاءاﷲبھی نہ کہا یعنی مجھے اپنے رب کی رحمت سے یقین ہے کہ وہ سچے کو تہمت کی سزا نہ لگنے دے گا،مجھے ضرور بچالے گا۔
۷؎فنزلکیفسے معلوم ہوتا ہے کہ ہلال مجلس شریف میں موجود تھے اور دربار عالی گرم تھا کہ آیت لعان نازل ہوگئی حضرت ہلال کا اندازہ سچا ہوگیا کیونکہ ف تعقیب بلا تراخی کے لیے آتی ہے۔
۸؎ظاہر یہ ہے کہجآءسے مراد حضور کی بارگاہ میں قسم کے لیے کھڑا ہونا کیونکہ ہلال وہاں ہی تھے ابھی غائب نہ ہوئے تھے اور ہوسکتا ہے کہ ہلال چلے گئے ہوں اور اس آیت کے نزول پر بلائے گئے ہوں مگر پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں گواہی سے مراد ہلال کا قسم کھاناہے چونکہ یہ قسم گواہی کے قائم مقام ہوتی ہے اس لیے اس قسم کو گواہی فرمایا قرآن کریم نے بھی اسے گواہی فرمایا۔
۹؎اب بھی مستحب یہ ہے کہ حاکم اس قسم کے الفاظ لعان کرنے والوں سے کہے ۔خیال رہے کہ اﷲتعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگوں کے خفیہ حالات پر مطلع فرمایا ہے مگر ساتھ ہی پردہ پوش بنایا ہے اس لیے نہ تو رب تعالٰی نے کوئی آیت اتاری کہ فلاں سچا ہے نہ حضور نے اس کی خبر دی لہذا یہ فرمان پردہ پوشی کی بنا پر ہے نہ کہ بے علمی کی بنا پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ نے حضور سے پوچھا تھا کہ میرا باپ کون ہے ؟فرمایا حذافہ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا سالم مولیٰ شیبہ۔ (بخاری شریف)اور باپ بیٹا ہونا وہ ہی جان سکتا ہے جو اندرونی حالات سے خبردار ہو لہذا ان کلمات سے حضور کی بے علمی ثابت کرنا سخت غلط ہے۔
۱۰؎یعنی چار باراشہد باﷲکہہ چکی جب پانچویں کی باری آئی صحابہ کرام نے اسے روک کر یہ تبلیغ کی۔
۱۱؎یا سزا کو یا دوزخ کی آگ کو اگر یہ پانچویں قسم تو نہ کھائے تو رجم و سنگسار کی جائے گی اور اگر جھوٹی قسم کھا گئی تو عذاب نار کی مستحق ہوگی لہذا سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤ۔ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حضور کو خبر تھی کہ مرد سچا ہے عورت سے خطا ہوئی ہے دیکھو صحابہ کرام نے ہلال کو یہ تبلیغ نہ کی صرف عورت کو کی۔
۱۲؎معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کو بھی علامات سے معلوم ہوچکا تھا کہ ہلال سچے ہیں عورت خطا کار ہے مگر چونکہ اسلام میں ان جیسی علامات کا اعتبار نہیں خصوصًا حدود میں اس لیے ان علامات پر احکام شرعیہ جاری نہیں ہوتے۔
۱۳؎یعنی پانچویں قسم بھی کھالی اور چھوڑ دی گئی اس روکنے لوٹنے کے متعلق اس سے کوئی باز پرس نہ کی گئی کہ تو پہلے رکی کیوں تھی۔
۱۴؎یعنی حرامی ہے غالبا شریک ابن سحماء اسی شکل کے ہوں گے اور بچہ اکثر باپ کی شکل پر ہوتا ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے مگر حضور کے فرمان عالی سے وہ یقینی ہوگیا مگر اس یقین پر شرعی سزا جاری نہیں ہوتی اس لیے عورت سے پھر بھی کچھ نہ کہا گیا۔
۱۵؎اس حکم سے مراد لعان کے احکام ہیں جو اس موقعہ پر قرآن کریم میں نازل ہو چکے تھے یعنی اگر یہ احکام لعان نہ آگئے ہوتے اور صرف علامات پر حدود شرعیہ جاری ہوجاتیں تو ہم اس کو سنگسار کردیتے۔
۱۶؎کہ ہم اس عورت کو سنگسار کردیتے،خیال رہے کہ حضور نے اس عورت کو ہلال سے علیحدہ کردیا مگر عدت کا خرچہ نہ دلوایا کیونکہ یہ علیحدگی طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے(مرقات)بعض روایات میں ہے کہ یہ بچہ زندہ رہا بعد میں مصر کا حاکم ہوا مگر اپنی ماں کی طرف نسبت کیا جاتا تھا۔(مرقات)مگر بعض روایات میں ہے کہ دو سال کی عمر پا کر وفات ہوگیا۔واﷲ اعلم!یہ عورت اور شریک بھی برے حال میں مرے(مرقات)خیال رہے کہ لعان کی صورت میں شرعًا کوئی فاسق نہیں کہا جاتا اسی لعان کرنے والے کی گواہی قبول ہے عند اﷲجو کچھ ہو وہ رب جانے لہذا شرعا ً ان دونوں بلکہ تینوں میں کوئی فاسق نہیں نہ ہلال نہ یہ عورت نہ شریک لہذا یہ مسئلہ بالکل حق ہے کہ صحابہ تمام کے تمام عادل ہیں سب جنتی ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3307