Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3318

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَضَى أَنَّ كلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده: أن النبي - صلى الله عليه وسلم- قضى أن كل مستلحق استلحق بعد أبيه الذي يدعى له ادعاه ورثته، فقضى أن من كان من أمة يملكها يوم أصابها فقد لحق بمن استلحقه، وليس له مما قسم قبله من الميراث شيء، وما أدرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه، ولا يلحق إذا كان أبوه الذي يدعى له أنكره، فإن كان من أمة لم يملكها أو من حرة عاهر بها فإنه لا يلحق ولا يرث، وإن كان الذي يدعى له هو ادعاه، فهو ولد زنية من حرة كان أو أمة. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ ہر ملایا ہوا شخص جو ملایا گیا ہو اس باپ کے بعد جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا دعوی کیا اس کے وارثوں نے ۱؎پس فیصلہ فرمایا ۲؎کہ جو اس لونڈی سے ہو جس کا مالک تھا اس دن جب اس سے صحبت کی تو وہ مل گیا اس سے جس سے اسے ملایا ۳؎اور اسے اس میراث سے کچھ نہ ملے گا جو اس سے پہلے تقسیم کی جاچکی۴؎اور جو میراث پالی کہ اب تک تقسیم نہ کی گئی تھی تو اس کے لیے اس کا حصہ ہے ۵؎اور نہ ملایا جاسکے گا جب کہ اس کے اس باپ نے جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا انکار کردیا ہو ۶؎پھر اگر اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا لونڈی سے ہو جس سے زنا کیا ہو تو وہ اس سے نہ ملے گا اور نہ وارث ہوگا اگرچہ اس کا دعویٰ وہ ہی کرے جس کی طرف منسوب کیا جارہا ہے کیونکہ وہ زنا کا بچہ ہے آزاد سے ہو یا لونڈی سے ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎شریعت میں اسےمقرلہیانسب علی الغیرکہتے ہیں اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص کا نسب مجہول ہے پتہ نہیں کہ کس کا لڑکا ہے کس خاندان کا ہے اس کے متعلق ایک یا چند آدمی کہتے ہیں کہ یہ ہمارا بھائی یا بھتیجا ہے یعنی ہمارے باپ یا بھائی کا بیٹا ہے ان مدعی حضرات کا باپ یا بھائی جس سے وہ لوگ اس موجودہ شخص کا نسب مان رہے ہیں وہ فوت ہوچکا ہے اس کا حکم آگے آرہا ہے۔
۲
؎یعنی ایسے شخص کے متعلق حضور نے فیصلہ فرمایا جو آرہا ہے یہ جملہ یا توانّکی خبر ہے توف جزائیہ ہے یاانّکی خبر پوشیدہ ہے اور یہ جملہ اس پوشیدہ خبر کی تفصیل تبفتفصیلیہ ہے۔
۳
؎یعنی وہ مرحوم شخص جس سے اس شخص کا نسب یہ لوگ ثابت کررہے ہیں اگر کسی لونڈی کا مالک تھا اس طرح کہ صحبت کے وقت وہ لونڈی اس مرحوم کی ملکیت میں تھی یہ اسی کا بچہ ہے تب تو اس کا نسب اس مرحوم سے ثابت ہوگیا اور یہ بھی دوسرے وارثوں کی طرح میراث پائے گا کیونکہ اس صورت میں ان مدعیوں کا دعویٰ دلیل سے ثابت ہے۔
۴
؎یعنی اگر زمانہ جاہلیت میں اس مرحوم کی میراث تقسیم کی جاچکی ہے اوراس تقسیم میں اس مقرلہ کو محروم رکھا جاچکا ہے تو اسلام میں وہ تقسیم قائم رکھی جائے گی اسے بدلانہ جائے گا اور اب اسے وارث نہ بنایا جائے گا کیونکہ اسلام میں زمانہ جاہلیت کے اس قسم کے فیصلے باقی رکھے جاتے ہیں۔
۵
؎یعنی اس دعویٰ کے بعد تقسیم میراث کی جائے تو اس شخص کو میراث سے حصہ دیا جائے گا۔
۶
؎یعنی اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں کہہ دیا تھا کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے بعد میں اس کے وارثوں نے کہا کہ یہ اس کا بیٹا ہے تو اب ان وارثوں کی بات نہ مانی جائے گی اوریہ شخص اس مرحوم کا بیٹا نہ ہوگا کیونکہ مرحوم کا انکار ہوتے ہوئے ان لوگوں کا اقرار معتبر نہیں۔
۷
؎یعنی جس کے متعلق یہ معلوم ہے کہ یہ شخص مرحوم کازنا کا بچہ ہے خواہ اس طرح کہ پہلے اس نے کسی کی لونڈی سے زنا کیا پھر اسے خرید لیا یا اس طرح کہ اس مرحوم نے کسی آزاد عورت سے زنا کیا اس صورت میں اگر خود مرحوم بھی کہہ جاتاکہ یہ میرا بیٹا ہے جب بھی اس سے نسب ثابت نہ ہوتا کہ یہ بچہ زنا کا ہے اور زنا سے نسب ثابت نہیں ہوا کرتا چہ جائیکہ اب اس کے مرے بعد اس کے عزیز و اقارب کہہ رہے ہیں کہ یہ اس کا بیٹا ہے،بہرحال ایسے بچہ کا نسب مرحوم سے ثابت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3318