Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3319

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مِن الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّتِي يُحِبُّهَا اللّٰهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُهَا اللّٰهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ، فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللّٰهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللّٰهُ فَاخْتِيَالُهُ فِي الْفَخْرِ" وَفِي رِوَايَةٍ: "فِي الْبَغْي". رَوَاهُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن جابر بن عتيك: أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: "من الغيرة ما يحب الله، ومنها ما يبغض الله، فأما التي يحبها الله فالغيرة في الريبة، وأما التي يبغضها الله فالغيرة في غير ريبة، وإن من الخيلاء ما يبغض الله، ومنها ما يحب الله، فأما الخيلاء التي يحب الله فاختيال الرجل عند القتال واختياله عند الصدقة، وأما التي يبغض الله فاختياله في الفخر" وفي رواية: "في البغي". رواه وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بعض شرم وہ ہیں جنہیں اپسند کرتا ہے اور بعض شرم وہ ہیں جنہیں اناپسند کرتا ہے ۲؎لیکن وہ شرم جسے اپسند کرتا ہے وہ مشکوک چیزوں میں شرم ہے ۳؎اور لیکن وہ شرم جسے اناپسند کرتا ہے وہ غیر مشکوک چیز میں شرم ہے ۴؎اور بعض ناز وہ ہیں جنہیں اناپسند کرتا ہے ۵؎اور بعض ناز وہ ہیں جنہیں اپسند کرتا ہے لیکن وہ ناز جسے اپسند کرتا ہے ۶؎وہ کسی کا ناز کرنا ہے جہاد کے وقت ۷؎اور اس کا ناز ہے خیرات کے وقت ۸؎اور لیکن وہ ناز جسے اناپسند کرتا ہے وہ فخریہ ناز ہے ۹؎اور ایک روایت میں ہے وہ سرکشی میں ناز ہے ۱۰؎(ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عتیک بروزن عتیق آپ جلیل الشان صحابی ہیں بدر اور تمام غزوات میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہے بعض مؤرخین نے فرمایا کہ بدر کے سواء باقی تمام غزوات میں شامل ہوئے مگر حق یہ ہے کہ بدر میں بھی شامل ہوئے کنیت ابو عبداہے انصاری ہیں اکیانوے سال عمر ہوئی ۶۱ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی مؤمن کی بعض شرم و حیاء رب کو پیاری ہیں اس پر اسے ثواب ملے گا اور بعض غیرتیں رب تعالٰی کو ناپسند ہیں جن سے بندہ عذاب کا مستحق ہوگا۔یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ حیاء ایمان کا رکن ہے یعنی رب تعالٰی کو پیاری حیاء رکن ایمانی ہے۔
۳
؎یعنی تہمت و شک کی جگہ جانے سے غیرت کرنا اس کا انجام اعلیٰ درجہ کا تقویٰ ہے مثلًا غیر مرد کا گھر میں آنا اپنی بیوی کو اس سے کلام کرتے دیکھنا اس پر غیرت کھا جان قوت ایمانی کی دلیل ہے اسی طرح خود اجنبی عورت سے خلوت کرنے پر غیرت کرنا کہ اس سے دوسروں کو ہم پر شبہ ہوسکتا ہے یہ غیرت خدا کی پیاری ہے۔
۴
؎یعنی بلاوجہ کسی پر بدگمانی کرنا غیرت نہیں بلکہ فتنہ و فساد کی جڑ ہے بعض خاوندوں کو اپنی بیویوں پر بلاوجہ بدگمانی رہتی ہے جس سے ان کے گھروں میں دن رات جھگڑے رہتے ہیں،یہ غیرت رب تعالٰی کو ناپسند ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
۵
؎غیرت کے ذکر میں پہلے محبوب غیرت کا بیان فرمایا کیونکہ اکثر غیرتیں محبوب ہیں کم غیرتیں مردود مگر فخر میں پہلے مردود فخر کا ذکر فرمایا بعد میں محبوب فخر کا کیونکہ فخر اکثر مردود ہوتے ہیں بہت تھوڑے محبوب۔
۶
؎لف و نشر غیر مرتب ہے کہ اجمال میں مردود فخر کا ذکر پہلے تھا مگر تفصیل میں محبوب فخر کا ذکر پہلے ہے کیونکہ درجہ اور قبولیت اس محبوب فخر کو ہے۔
۷
؎اس طرح کہ کفار کے مقابل جہاد میں اپنے کو بہت بہادر سمجھے اور اپنے مقابل کافر کو حقیر و ذلیل و کمزور جانے اور اس کے سامنے اپنی بہادری قول و عمل سے ظاہر کرے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ جہاد میں کفار سے فرماتے تھےانا الذی سمتنی امی حیدرامیں وہ جس کا نام اس کی ماں نے حیدر کرار رکھا ہے حیدر معنی شیر کرار معنے پلٹ پلٹ کر حملہ کر نے والا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوہ حنین میں کفار کو للکار کر فرمایاانا النّبی لاکذب انا ابن عبدالمطلبمیں جھوٹا نبی نہیں ہوں،میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں یہ نازو فخر رب تعالٰی کو پیارا ہے۔
۸
؎یعنی خیرات خصوصًا چندہ دیتے وقت اپنے کو بہت امیر سمجھنا اور جو کچھ دے رہا ہے اسے کم سمجھنا اور خوش ہو کر شکر کرتے ہوئے دینا یہ صدقہ کے وقت کا فخر ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡاکے فضل و رحمت پر خوب خوشیاں مناؤ یہ خوشی شکر کی ہے نہ کہ گھمنڈ کی،گھمنڈ کے لیے فرماتاہے:"لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ" شیخی نہ مارو اتعالٰی شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔
۹
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بجائےفی الفخرکےفی الفقرہے یعنی فقیری میں تکبر کرنا مردود ہے کہ ہے تو اپنے پاس کچھ بھی نہیں مگر شیخی کے مارے پائیجامہ سے باہر ہوئے جاتے ہیں لیکن امیروں کے مقابل فخر کرنا کہ اپنے کو ان سے غنی جاننا اپنے کو محض ارسول کا محتاج سمجھنا یہ بہت ہی بہتر ہے کہ یہ قناعت کی قسم ہے۔(مرقات)شعر
اے قناعت تو نگرم گرداں کہ وارے ہیچ نعمت نیست
۱۰
؎بغیکے منع ظلم،بغاوت،سرکشی،حسد وغیرہ ہیں سارے معنے بن سکتے ہیں،اس فخر کی بہت سی قسمیں ہیں ہر قسم بری رب تعالٰی ان سے بچائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3319