- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3312
باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3312
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ ولِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: "احْتَجِبِي مِنْهُ" لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمَعَةَ" مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عائشة قالت: كان عتبة بن أبي وقاص عهد إلى أخيه سعد بن أبي وقاص: أن ابن وليدة زمعة مني فاقبضه إليك، فلما كان عام الفتح أخذه سعد فقال: إنه ابن أخي، وقال عبد بن زمعة: أخي، فتساوقا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سعد: يا رسول الله! إن أخي كان عهد إلي فيه، وقال عبد بن زمعة: أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هو لك يا عبد بن زمعة، الولد للفراش، وللعاهر الحجر" ثم قال لسودة بنت زمعة: "احتجبي منه" لما رأى من شبهه بعتبة، فما رآها حتى لقي الله. وفي رواية: قال: "هو أخوك يا عبد بن زمعة" من أجل أنه ولد على فراش أبيه. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ عتبہ ابن ابی وقاص نے ۱؎اپنے بھائی سعد ابن ابی وقاص سے عہد لیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے تو تم اس پر قبضہ کرلینا ۲؎پھر جب فتح مکہ کا سال ہوا تو اسے سعد نے لے لیا بولے کہ یہ میرا بھتیجا ہے ۳؎اور عبداللہ ابن زمعہ نے کہا یہ میرابھائی ہے ۴؎یہ دونوں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف مقدمہ لے گئے ۵؎سعد نے کہا یارسول اﷲمیرے بھائی نے اس بچہ کے بارے میں مجھ سے عہد کیا تھا اور عبداللہ ابن زمعہ بولے کہ یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ۶؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عبد اللہ ابن زمعہ وہ بچہ تمہارا ہے ۷؎بچہ مستحق ولدکا ہوتاہے زانی کے لیے پتھر ۸؎پھر سودہ بنت زمعہ سے فرمایا کہ اس بچہ سے پردہ کرنا کیونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے دیکھی ۹؎چنانچہ اس لڑکے نے سودہ کو نہ دیکھا حتّٰی کہ اﷲسے مل گیا ۱۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اے عبد ابن زمعہ وہ تمہارا بھائی ہے اس لیے کہ وہ ان کے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ عتبہ وہ ہی ہے جس نے احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دانت مبارک شہید کیا تھا،یہ کافر ہی مرا رب کی شان ہے کہ ایک بھائی اول نمبر کا کافر اور دوسرا بھائی حضرت سعد ابن ابی وقاص اعلیٰ درجہ کے مؤمن جن سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان پھر ان ہی سعد کا بیٹا عمرو ابن سعد ایسا منحوس جس نے کربلا کے میدان میں اہلِ بیت اطہار پر پہلا تیر چلایا۔
۲؎یعنی زمعہ کی لونڈی سے میں نے زنا کیا تھا اس سے بچہ پیدا ہوا تھا وہ بچہ اس ہی زنا کا ہے لہذا وہ بچہ میرا ہے جب تم کو موقعہ ملے اس بچہ کو لے لینا اور اس کی پرورش کرنا کہ تمہارا بھتیجا ہے۔
۳؎کیونکہ میرے بھائی عتبہ کے زنا سے پیدا ہوا ہے زمانہ جاہلیت میں زنا سے نسب ثابت مانا جاتا تھا اگر زانی اس نسب کا دعویٰ کرتا۔
۴؎زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی لونڈیوں سے زنا کرا کر زنا کی آمدنی وصول کرتے تھے اور اس زنا سے جو بچے پیدا ہوتے ان میں جھگڑے ہوتے تھے۔زانی کہتا تھا کہ میرا بچہ ہے مالک کہتا کہ میرا ،یہ بچہ بھی اس قسم کا تھا سعد کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ بچہ میرے بھائی کے نطفے سے ہے لہذا میرا بھائی ہے عبدابن زمعہ کا کہنا تھاکہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے لہذا میرا بھائی ہے(مرقات)
۵؎تساوقا سوقسے بنا بمعنی چلانا ’’ہانکنا‘‘تساوقاتثنیہ ہے کہ اس کا فاعل دونوں ہیں یہاں مراد مقدمہ بارگاہ عدالت تک لے جانا ہے۔
۶؎فراش کے لفظی معنے ہیں بستر پھر بستر پر لیٹنے لٹانے والے کو فراش کہنے لگے اصطلاح میں مستحق ولد کو فراش کہا جاتا ہے،خاوند،مولیٰ صاحب فراش ہیں یہاں یہ ہی معنے مراد ہیں۔
۷؎یعنی تمہار اباپ شریکا بھائی ہے کہ تمہارے باپ کی مملوکہ لونڈی سے پیدا ہوا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مالی دعوؤں کی طرح نسب کا دعویٰ بھی ہوسکتا ہے، دوسرے یہ کہ لونڈی اپنے مولیٰ کی فراش ہے جب کہ مولیٰ اس سے وطی کرے کہ اس کا بچہ مولیٰ کا مانا جائے گا۔تیسرے یہ کہ جب بچہ مولیٰ کا ہوسکتا ہو تو اگرچہ لونڈی سے صحبت کسی دوسرے نے کی ہو مگر بچہ مولیٰ کا ہوگا جب مولیٰ اس کا دعویٰ کرے،چوتھے یہ کہ نسب میں وارث کا اقرار مولی کے اقرار کی طرح ہے۔خیال رہے کہ اگر خاوند یا مولی مشرق میں ہو اور بیوی یا لونڈی مغرب میں،اور کبھی خاوند بیوی کے پاس نہ آیا ہو،بیوی خاوند کے پاس نہ گئی ہو اور بچہ پیدا ہوجائے خاوند یا مولی کہے کہ یہ بچہ میرا ہے تو امام شافعی و مالک کے ہاں اس کی بات نہ مانی جائے گی یہاں اس نسب کا امکان نہیں مگرامام اعظم کے ہاں اس کا دعویٰ قبول ہوگا اور بچہ اسی کا ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ مرد یا عورت ولی اﷲہو بطور کرامت ان کا قرب و صحبت واقع ہو گئی ہو کرامات اولیاء برحق ہیں۔(مرقات)علامہ شامی نے بھی مسئلہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ حضرات اولیاء اﷲعالم کی سیر کرسکتے ہیں دور کی جگہ حاضر و ناظر ہوسکتے ہیں ہم نے بھی یہ مسئلہ جاء الحق بحث حاضر و ناضر میں بیان کیا۔
۸؎یعنی اسلام میں زانی سے نسب ثابت نہیں بلکہ مسلمان محصن زانی سنگسار کیے جانے کے لائق ہے لہذا حدیث پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ ابن ابی وقاص کو یا اس لونڈی کو سنگسار کیوں نہ کیا ؟
۹؎ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اس فیصلہ کی بنا پر یہ بچہ حضرت سودہ کا علاتی بھائی ہوا اور بھائی سے پردہ نہیں یہ ہے فتویٰ مگر تقویٰ وہ ہے جو اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس بچہ کی شکل و شباہت عتبہ سے ملتی جلتی ہے احتمال یہ ہے کہ عتبہ کا بچہ ہو لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اے سودہ تم اس بچہ سے پردہ کرو کہ شاید یہ تمہارا اجنبی ہو۔ خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اﷲعلیہ کے نزدیک زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا حرامی بچہ زانی باپ کی میراث نہیں پاتا مگر حرمت زنا سے بھی آجاتی ہے کہ زانی پر مزنیہ عورت کی اولاد اس کی ماں نانی وغیرہ حرام ہوجاتی ہے مگر امام شافعی و مالک کے ہاں زنا سے حرمت بھی نہیں آتی زانی شخص مزنیہ عورت کی ماں وغیرہ سے نکاح کرسکتا ہے۔(مرقات)بعض شوافع کے ہاں تو خود زنا کی اس بچی سے بھی نکاح درست ہے جوا س کے نطفہ سے پیدا ہوئی۔(مرقات)
۱۰؎اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ وہ بچہ پہلے فوت ہوا حضرت سودہ بعد میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کے مرتے دم تک نہ اس نے بی بی سودہ کو دیکھا نہ بی بی سودہ نے اس کو،لہذا حدیث واضح ہے۔
۱۱؎یہ کلام راوی کا ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اسی لیےابیہغائب کی ضمیر وارد ہوئیابیکمخاطب کی ضمیر نہ آئی۔خیال رہے کہ لونڈی کا بچہ مولیٰ سے جب مانا جاتا ہے جب کہ مولیٰ اس بچہ کا دعوی کرے صرف وطی کے اقرار سے نسب ثابت نہ ہونا یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔حضرت عمر،زید ابن ثابت کا یہ ہی قول ہے مگر امام شافعی کے ہاں صرف اقرار وطی سے نسب ثابت ہوجاتا ہے اگر مولیٰ عزل کا مدعی ہو۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3312