- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 4628
باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4628
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ عَلٰى صُورَتِهٖ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهٗ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلٰى أُولٰئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ " قَالَ: «فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» . قَالَ: «فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهٗ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهٗ حَتَّى الْآنَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلق الله آدم على صورته طوله ستون ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يجيبونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك فذهب فقال: السلام عليكم فقالوا: السلام عليك ورحمة الله " قال: «فزادوه ورحمة الله» . قال: «فكل من يدخل الجنة على صورة آدم وطوله ستون ذراعا فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۱∞؎جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گز تھی ۲؎تو جب انہیں پیدا کیا تو فرمایا جاؤ ان لوگوں پٖر سلام کرو وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی ۳؎تو غور سے سنو وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں پھر وہ ہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے ۴؎چنانچہ آپ گئے تو کہا السلام علیکم ۵؎ان سب نے کہا السلام علیک ورحمۃ الله فرمایا تو انہوں نے ورحمۃ الله بڑھا دیا۶؎تو جو بھی جنت میں جاوے گا حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۷؎اور اس کا قد ساٹھ۶۰ گز ہوگا پھر جناب آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق گھٹتی رہی حتی کہ اب تک ۸؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اس جملہ کی چار شرحیں ہیں۔صورت بمعنی ہیئت و شکل ہے یا بمعنی صفت اور ضمیر کا مرجع یا آدم علیہ السلام ہیں یا الله تعالٰی لہذا اس جملہ کے چار معنی ہیں۔الله تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو انکی شکل و ہیئت پر پیدا فرمایا کہ جس شکل میں انہیں رہنا تھا انہیں اول ہی سے وہ شکل دی دوسروں کی طرح نہ کیا کہ پہلے بچہ پھر جوان پھر بڈھا وغیرہ یا الله نے حضرت آدم کو ان کی صفت پر پیدا کیا کہ وہ اول ہی سے عالم عارف،سمیع و بصیر وغیرہ تھے دوسروں کی طرح نہیں کہ وہ جاہل پیدا ہوتے ہیں پھر بعد میں ہوش عقل وغیرہ حاصل کرتے ہیں یا الله نے حضرت آدم کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ"اس لیے کوئی شخص دوزخ میں شکل انسانی سے نہ جاوے گا کہ یہ شکل خدا کو پیاری ہے یا الله نے حضرت آدم کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا کہ انہیں اپنا علم،اپنا تصرف،اپنی سمع،اپنی قدرت وغیرہ بخشی۔ (از اشعہ،مرقات)۲؎گز سے مراد شرعی گز ہے یعنی ایک ہاتھ(ڈیڑھ فٹ)یعنی آپ ساٹھ ہاتھ کے ہی پیدا ہوئے دوسرے انسانوں کی طرح نہیں کہ پہلے بہت چھوٹے پیدا ہوتے ہیں پھر بڑھتے رہتے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش ماں باپ سے نہیں تھی لہذا چھوٹا پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
۳؎جلوسیا تو مصدر ہے تو اس سے پہلےذوپوشیدہ ہے یا جمع ہےجالسکی جیسےقاعدہکی جمع ہےقعوداورراکعوساجدکی جمع ہےرکوعوسجودیعنی وہ جماعت ملائکہ جو بیٹھی ہوئی ہے انہیں سلام کرو،اعلیٰ سے ادنی کو سلام کرایا،مسجود سے ساجدین کو تحیۃ کرائی غالبًا یہ واقعہ سجدہ آدم کے بعد کا ہے۔
۴؎اس ارشاد فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام جواب کا علم نہ تھا بلکہ اسے سنت ملائکہ قرار دینے کے لیے کہا تاکہ اولاد آدم کو یہ معلوم ہوجائے کہ سلام کرنا سنت آدم علیہ السلام ہے اور اعلیٰ جواب دینا سنت ملائکہ،رب تعالٰی انہیں تمام چیزوں کا علم پہلے ہی دے چکا تھا۔
۵؎معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کے الفاظ سے سلام کرنے کا طریقہ پہلے ہی سے معلوم تھا اس لیے رب تعالٰی نے آپ کو سلام کے الفاظ نہ بتائے سب کچھ پہلے ہی بتادیا سمجھا دیا گیا ہے۔
۶؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جواب سلام میں السلام علیکم کہنا بھی جائز اگرچہ وعلیکم السلام کہنا افضل ہے۔ دوسرے یہ کہ جواب میں کچھ زیادہ الفاظ کہنا بہتر ہے جیساکہ آئندہ آوے گا۔
۷؎یعنی جنت میں صرف انسان ہی جائیں گے جانور یا جنات نہ جائیں گے اور تمام جنتی انسان آدم علیہ السلام کی طرح حسین و جمیل تندرست ہوں گے کوئی بدشکل یا بیمار نہ ہوگا اور سب کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا کوئی اس سے کم یا زیادہ نہ ہوگا،دنیا میں خواہ پست قد تھا یا دراز قد،بچہ تھا یا بوڑھا،دوزخی کفار بہت موٹے ہوں گے ان کی ایک ڈاڑھ پہاڑ کی برابر ہوں گی۔(اشعہ)۸؎یعنی ان کی اولاد برابر قدوقامت میں گھٹتی رہی حتی کہ اب ساڑھے تین فٹ کے لگ بھگ رہ گئی مگر یہ کمی صرف دنیا میں ہے آخرت میں جنت میں پوری کردی جاوے گی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4628