Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4628

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ عَلٰى صُورَتِهٖ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهٗ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلٰى أُولٰئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ " قَالَ: «فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» . قَالَ: «فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهٗ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهٗ حَتَّى الْآنَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلق الله آدم على صورته طوله ستون ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يجيبونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك فذهب فقال: السلام عليكم فقالوا: السلام عليك ورحمة الله " قال: «فزادوه ورحمة الله» . قال: «فكل من يدخل الجنة على صورة آدم وطوله ستون ذراعا فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۱∞؎جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گز تھی ۲؎تو جب انہیں پیدا کیا تو فرمایا جاؤ ان لوگوں پٖر سلام کرو وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی ۳؎تو غور سے سنو وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں پھر وہ ہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے ۴؎چنانچہ آپ گئے تو کہا السلام علیکم ۵؎ان سب نے کہا السلام علیک ورحمۃ الله فرمایا تو انہوں نے ورحمۃ الله بڑھا دیا۶؎تو جو بھی جنت میں جاوے گا حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۷؎اور اس کا قد ساٹھ۶۰ گز ہوگا پھر جناب آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق گھٹتی رہی حتی کہ اب تک ۸؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کی چار شرحیں ہیں۔صورت بمعنی ہیئت و شکل ہے یا بمعنی صفت اور ضمیر کا مرجع یا آدم علیہ السلام ہیں یا الله تعالٰی لہذا اس جملہ کے چار معنی ہیں۔الله تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو انکی شکل و ہیئت پر پیدا فرمایا کہ جس شکل میں انہیں رہنا تھا انہیں اول ہی سے وہ شکل دی دوسروں کی طرح نہ کیا کہ پہلے بچہ پھر جوان پھر بڈھا وغیرہ یا الله نے حضرت آدم کو ان کی صفت پر پیدا کیا کہ وہ اول ہی سے عالم عارف،سمیع و بصیر وغیرہ تھے دوسروں کی طرح نہیں کہ وہ جاہل پیدا ہوتے ہیں پھر بعد میں ہوش عقل وغیرہ حاصل کرتے ہیں یا الله نے حضرت آدم کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ"اس لیے کوئی شخص دوزخ میں شکل انسانی سے نہ جاوے گا کہ یہ شکل خدا کو پیاری ہے یا الله نے حضرت آدم کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا کہ انہیں اپنا علم،اپنا تصرف،اپنی سمع،اپنی قدرت وغیرہ بخشی۔ (از اشعہ،مرقات)۲؎گز سے مراد شرعی گز ہے یعنی ایک ہاتھ(ڈیڑھ فٹ)یعنی آپ ساٹھ ہاتھ کے ہی پیدا ہوئے دوسرے انسانوں کی طرح نہیں کہ پہلے بہت چھوٹے پیدا ہوتے ہیں پھر بڑھتے رہتے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش ماں باپ سے نہیں تھی لہذا چھوٹا پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
۳
؎جلوسیا تو مصدر ہے تو اس سے پہلےذوپوشیدہ ہے یا جمع ہےجالسکی جیسےقاعدہکی جمع ہےقعوداورراکعوساجدکی جمع ہےرکوعوسجودیعنی وہ جماعت ملائکہ جو بیٹھی ہوئی ہے انہیں سلام کرو،اعلیٰ سے ادنی کو سلام کرایا،مسجود سے ساجدین کو تحیۃ کرائی غالبًا یہ واقعہ سجدہ آدم کے بعد کا ہے۔
۴
؎اس ارشاد فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام جواب کا علم نہ تھا بلکہ اسے سنت ملائکہ قرار دینے کے لیے کہا تاکہ اولاد آدم کو یہ معلوم ہوجائے کہ سلام کرنا سنت آدم علیہ السلام ہے اور اعلیٰ جواب دینا سنت ملائکہ،رب تعالٰی انہیں تمام چیزوں کا علم پہلے ہی دے چکا تھا۔
۵
؎معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کے الفاظ سے سلام کرنے کا طریقہ پہلے ہی سے معلوم تھا اس لیے رب تعالٰی نے آپ کو سلام کے الفاظ نہ بتائے سب کچھ پہلے ہی بتادیا سمجھا دیا گیا ہے۔
۶
؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جواب سلام میں السلام علیکم کہنا بھی جائز اگرچہ وعلیکم السلام کہنا افضل ہے۔ دوسرے یہ کہ جواب میں کچھ زیادہ الفاظ کہنا بہتر ہے جیساکہ آئندہ آوے گا۔
۷
؎یعنی جنت میں صرف انسان ہی جائیں گے جانور یا جنات نہ جائیں گے اور تمام جنتی انسان آدم علیہ السلام کی طرح حسین و جمیل تندرست ہوں گے کوئی بدشکل یا بیمار نہ ہوگا اور سب کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا کوئی اس سے کم یا زیادہ نہ ہوگا،دنیا میں خواہ پست قد تھا یا دراز قد،بچہ تھا یا بوڑھا،دوزخی کفار بہت موٹے ہوں گے ان کی ایک ڈاڑھ پہاڑ کی برابر ہوں گی۔(اشعہ)۸؎یعنی ان کی اولاد برابر قدوقامت میں گھٹتی رہی حتی کہ اب ساڑھے تین فٹ کے لگ بھگ رہ گئی مگر یہ کمی صرف دنیا میں ہے آخرت میں جنت میں پوری کردی جاوے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4628