Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4650

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهٗ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا لقي أحدكم أخاه فليسلم عليه فإن حالت بينهما شجرة أو جدار أو حجر ثم لقيه فليسلم عليه . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے ۱∞؎تو اسے سلام کرے پھر اگر ان کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر کی آڑ ہوجائے پھر اس سے ملے تو پھر اسے سلام کرے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بھائی سے مراد اسلامی بھائی ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی۔بھائی فرماکر اشارۃً فرمایا کہ اجنبی عورت کو سلام نہ کرے۔
۲
؎یعنی ملاقات کا سلام غائب ہونے کے بعد ملنے پر ہوگا غائب ہونا اگرچہ معمولی ہی ہو ذرا سی آڑ درمیان میں آگئی ہے غائب ہونا پالیا گیا اب ملنا ملاقات ہے سلام کرو،بلکہ حکمی غائب ہونے کے بعد بھی سلام سنت ہے اس لیے نماز ختم ہونے پر سلام کیا جاتا ہے اس سلام میں نمازی ایک دوسرے کی نیت کریں کیونکہ نمازی بحالت نماز ایک دوسرے سے حکمًا غائب تھے اب عالم بالا کی سیرکرکے آرہے ہیں لہذا سلام کرتے ہیں۔بعد نمازِ فجر بعض لوگ مصافحہ کرتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ مصافحہ بوقت ملاقات ہوتا ہے اور یہ بھی وقت ملاقات ہے۔خیال رہے کہ یہاں وہ حالات مراد ہیں جن میں سلام ممنوع نہ ہو لہذا جو پیشاب پاخانہ یا جماع میں مشغول ہو یا سو رہا ہو،اونگھ رہا ہو یا نماز یا اذان میں مشغول ہو یا غسل خانہ میں ہو ،کھانا کھا رہا ہو لقمہ منہ میں ہو یا تلاوت قرآن کررہا ہو یا دینی درس دے رہا ہو یا سن رہا ہو اسے سلام نہ کرے،اگر کرے گا تو اس کا جواب دینا لازم نہ ہوگا۔(مرقات)یوں ہی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت سلام ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4650