Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4648

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مَرْفُوعًا. وَرَوَى أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: وَرَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ شَيْخُ أَبِي دَاوُدَ

وعن علي بن أبي طالب قال: يجزئ عن الجماعة إذا مروا أن يسلم أحدهم ويجزئ عن الجلوس أن يرد أحدهم. رواه البيهقي في شعب الإيمان مرفوعا. وروى أبوداود وقال: ورفعه الحسن بن علي وهو شيخ أبي داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ جماعت کی طرف سے یہ کافی ہے کہ جب وہ گزریں تو ان میں سے ایک سلام کرے اور بیٹھے ہوؤں کی طرف سے یہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک جواب دے دے ۱∞؎بیہقی نے شعب الایمان میں مرفوعًا روایت کیا ۲؎اور ابواؤد نے روایت کی اور کہا کہ اسے حسن ابن علی نے مرفوع کیا وہ ابوداؤد کے شیخ ہیں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسلام میں سلام کرنا سنت علی الکفایہ ہے کہ اگر جماعت میں سے ایک بھی سلام کرے تو سب کی سنت ادا ہوجائے گی اور سامنے والوں پر جواب سلام دینا فرض کفایہ ہے کہ اگر اس جماعت میں سے ایک نے بھی جواب دے دیا تو سب کی طرف سے فرض ادا ہوگیا۔خیال رہے کہ فرض علی الکفایہ تو بہت ہیں جیسے نماز جنازہ اور سلام کا جواب،بعض صورتوں میں جہاد،عالم دین بننا وغیرہ مگر سنت علی الکفایہ صرف دو ہیں: ایک تو سلام، دوسرے چھینک کا جواب۔کھاتے وقت بسم الله پڑھنا ہمارے ہاں سنت علی العین ہے کہ ہرشخص بسم الله پڑھ کر کھائے اور شوافع کے ہاں سنت علی الکفایہ،بہرحال احناف کے نزدیک سنت علی الکفایہ صرف یہ دو چیزیں ہی ہیں۔
۲
؎یعنی یہ حدیث ابوداؤد نے دو اسنادوں سے روایت کی ایک اسناد میں مرفوع ہے یعنی حسن ابن علی کی اسناد میں دوسری اسناد میں حضرت علی کا اپنا قول روایت کیا یعنی حدیث موقوف مگر بیہقی نے صرف مرفوعًا روایت کی۔
۳
؎یعنی یہ حسن ابن علی ابوداؤد کے مشائخ سے ایک شیخ ہیں یہ حسن ابن علی ابن ابی طالب نہیں دھوکا نہ کھانا چاہیے،اس کی اسناد یہ ہیں عن ابی داؤد عن حسن ابن علی عن عبدالملک ابن ابراہیم عن سعید ابن خالد عن عبدالله ابن فضل عن عبدالله ابن ابی رافع عن علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ،بہرحال یہ حدیث موقوف بھی ہے مرفوع بھی لہذا مرفوع ہی مانی جاوے گی،اگر موقوف بھی ہوتی تب بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی کہ ایسی حدیث جو عقل سے وراء ہو وہ موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4648