Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4661

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جُلُوسٍ فِي الطُّرَقَاتِ إِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيلَ وَرَدَّ التَّحِيَّةَ وَغَضَّ الْبَصَرَ وَأَعَانَ عَلَى الحَمُولَةِ» رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي جُرَيٍّ فِي « بَابِ فَضْلِ الصَّدَقَةِ »

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا خير في جلوس في الطرقات إلا لمن هدى السبيل ورد التحية وغض البصر وأعان على الحمولة» رواه في «شرح السنة»وذكر حديث أبي جري في « باب فضل الصدقة »

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے میں بھلائی نہیں ۱∞؎سواء اس کے جو راستہ کو بتائے اور سلام کا جواب دے اور نگاہ نیچے رکھے اور سوارکرنے پر مدد دے ۲؎(شرح سنہ)ابوجری کی حدیث فضل کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎بلکہ راستوں میں بیٹھنا کبھی گناہوں کا سبب بن جاتا ہے اس سے اجنبی عورتوں پر نظر پڑ جاتی ہے اور بہت خرابیاں ہوجاتی ہیں،ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔
۲
؎یعنی اگر تم کو راستوں پر بیٹھنا پڑ جاوے تو یہ چار نیکیاں کرتے رہو: بھولے بھٹکے ناواقف کو راستہ بتاؤ،نگاہیں نیچے رکھو،راہ گیروں کے سلام کے جواب دو،اگر کوئی سواری پر سوار ہونے میں دشواری محسوس کرتا ہو تو اسے سوار کرادوں،یوں ہی اگر کوئی بوجھ اٹھانا چاہتا ہے مگر اسے دشواری ہورہی ہو تو اس کی گٹھڑی اس کے سر پر رکھ دو۔
۳
؎اس حدیث کے اول میں یہ تھا کہ میں نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیاعلیك السلام یارسول اللهتو فرمایا یہ مردوں کا آپس کا سلام ہے تم یوں کہو السلام علیک۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4661