Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4644

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، فَقَالَ: "عِشْرُونَ". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: ثَلَاثُونَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن عمران بن حصين أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: السلام عليكم فرد عليه ثم جلس. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: عشر . ثم جاء آخر فقال: السلام عليكم ورحمة الله، فرد عليه، فجلس، فقال: "عشرون". ثم جاء آخر فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فقال: ثلاثون . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو عرض کیا السلام علیکم ۱∞؎حضور انور نے اس کا جواب دیا پھر بیٹھ گیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا دس ۲؎پھر دوسرا آدمی اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ الله حضور نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس پھر وہ دوسرا آیا عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ آپ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس ۳؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو بھی سلام کرے تو علیکم جمع سے کہے کہ اس میں ان فرشتوں کو سلام ہوجاتا ہے جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں محافظین اور کاتبین اعمال وغیرہم اگرچہ علیک واحد کہنا بھی جائز ہے۔
۲
؎عشرفاعل ہےثبت لہپوشیدہ کا یا نائب فاعل ہےکتبفعل مجہول کا یعنی اس کو دس نیکیوں کا ثواب حاصل ہوا یا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی گئیں۔
۳
؎معلوم ہوا کہ سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں جتنے کلمات زیادہ ہوں اتنی نیکیاں اسی حساب سے زیادہ ہوں گی، جواب دینے والا زیادہ اچھا جواب دے یعنی سلام کے کلمات پر کچھ کلمات بڑھاکر جواب دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4644