Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4664

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْطُّفَيْلِ بْنِ أُبيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَأْتِي ابْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ اِلَى السُّوقِ. قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ عَلٰى سَقَّاطٍ وَلَا عَلٰى صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلَا مِسْكِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ. قَالَ الطُّفَيْلُ:فَجِئْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى البَيْعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السّلع وتسوم بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ فَاجْلِسْ بِنَا هَهُنَا نَتَحَدَّثُ. قَالَ: فَقَالَ لِيْ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ: يَا أَبَا بَطْنٍ قَالَ وَكَانَ الطُّفَيْلُ ذَابَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلٰى مَنْ لَقِينَاهُ.رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن الطفيل بن أبي بن كعب: أنه كان يأتي ابن عمر فيغدو معه الى السوق. قال فإذا غدونا إلى السوق لم يمر عبد الله بن عمر على سقاط ولا على صاحب بيعة ولا مسكين ولا أحد إلا سلم عليه. قال الطفيل:فجئت عبد الله بن عمر يوما فاستتبعني إلى السوق فقلت له: وما تصنع في السوق وأنت لا تقف على البيع ولا تسأل عن السلع وتسوم بها ولا تجلس في مجالس السوق فاجلس بنا ههنا نتحدث. قال: فقال لي عبد الله بن عمر: يا أبا بطن قال وكان الطفيل ذابطن إنما نغدو من أجل السلام نسلم على من لقيناه.رواه مالك والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے طفیل بن ابی کعب سے ۱∞؎کہ وہ حضرت ابن عمر کے پاس جاتے تھے تو ان کے ساتھ بازار تک جاتے تو عبدالله ابن عمر کسی معمولی چیزیں بیچنے والے ۲؎اور شاندار تجارت کرنے والے اور مسکین پر اور کسی پر نہ گزرتے مگر اسے سلام کرتے ۳؎طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن میں عبدالله ابن عمر کے پاس گیا تو مجھ سے بازار تک چلنے کو کہا میں نے کہا آپ بازار میں کرتے کیا ہیں نہ تو خرید وفروخت پر کھڑے ہوتے ہیں نہ سامان کی دریافت کرتے ہیں نہ اس کا بھاؤ لگاتے ہیں نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو ہمارے ساتھ یہاں ہی بیٹھے باتیں کرلیں گے ۴؎فرماتے ہیں کہ تو مجھ سے عبدالله بن عمر نے فرمایا اے پیٹ والے،راوی کہتے ہیں کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا ۵؎ہم سلام کے لئےجاتے ہیں کہ جو ہمیں ملے اسے سلام کریں ۶؎(مالک، بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ طفیل تابعی ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں پیدا ہوئے مگر آپ کی زیارت نہ کرسکے، آپ کی کنیت ابوالحسن ہے،انصاری ہیں۔
۲
؎سقاطسین کے فتحہ ق کے شد سے بنا ہےسقطسے،سقطمعمولی چیزوں کو کہتے ہیں یعنی گہری بڑی چیزیں۔سقاط وہ شخص جو معمولی چیزیں فروخت کرتا ہو جسے اردو میں کہتے ہیں چھابڑہ فروش اور صاحب بیعت اعلیٰ چیزوں کا بیوپاری کہلاتا ہے۔
۳
؎یعنی آپ ہر تاجر غیر تاجر،امیروفقیر،واقف ناواقف سب کو سلام کرتے تھے اور کچھ خرید و فروخت نہیں کرتے تھے۔
۴
؎یعنی یہاں بیٹھ کر دینی باتیں کریں،کتاب و سنت،الله رسول کا ذکر کریں بازار جاتے آتے بات کرنے کا موقعہ نہیں ملتا۔
۵
؎لہذا ابوبطن کے معنی ہوئے پیٹ والے جیسے ابوہریرہ بلیوں والے،ابوبکر اولیت والے،ابوبطن بڑے پیٹ والے۔
۶
؎یعنی ہمارا بازار جانا بھی عبادت ہے کہ ہم وہاں عملی تبلیغ کے لیے جاتے ہیں،سلام کی اشاعت کرنا لوگوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالنا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کو سنت کا عادی بنانا بھی بہترین عبادت ہے،علماء اگر لوگوں کے پاس جاکر انہیں تبلیغ کریں تو بہت ہی اچھا ہے،گھر بلاکر تبلیغ کرنا اور لوگوں کے گھر جاکر تبلیغ کرنا دونوں ہی سنت ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4664