Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4643

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهٗ وَيُجِيبُهٗ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهٗ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهٗ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهٗ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهٗ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " للمسلم على المسلم ست بالمعروف: يسلم عليه إذا لقيه ويجيبه إذا دعاه ويشمته إذا عطس ويعوده إذا مرض ويتبع جنازته إذا مات ويحب له ما يحب لنفسه " رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسلمان کے لیے مسلمان پر چھ اچھی خصلتیں ہیں ۱∞؎جب اس سے ملے تو سلام کرے ۲؎جب وہ دعوت دے تو قبول کرے ۳؎اور جب چھینکے تو اسے جواب دے جب بیمار ہوجاوے تو مزاج پرسی کرے جب مرجاوے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے ۴؎اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۵؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ستٌّکے بعدخصالپوشیدہ ہے اوربالمعروفصفت ہے اسی پوشیدہخصالکی،خصالجمع ہےخصلتکی بمعنی عادت مگر یہاں مراد وہ حقوق ہیں جن کی عادت ڈالی جائے یعنی مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں ان کی ادا کی عادت ڈالنی چاہئے۔
۲
؎اگر راہ میں ملے تو صرف ایک بار سلام کرے مگر جب کسی کے گھر جا کر ملے تو تین بار سلام کرے،پہلا سلام اجازت داخلہ کے لیے،دوسر سلام جب اندر داخل ہو اس سے ملاقات کرے اور تیسرا سلام وداع ہوتے وقت پہلے سلام کو سلام استیذان کہتے ہیں،دوسرے کو تحیۃ،تیسرے کو سلام وداع۔یہاں راہ چلتے وقت کا سلام مراد ہے اس لیے صرفلقیہفرمایا حضور کے ہر لفظ پاک میں عجیب حکمتیں ہوتی ہیں۔
۳
؎کھانے کے لیے دعوت دے یا اپنے کسی کام کے لیے بلائے بشرطیکہ وہ کھانے کی دعوت یا اس کا یہ کام ناجائز نہ ہو۔
۴
؎اتباع کے معنی ہیں پیچھے چلنا،یہاںیتبعفرما کر اشارۃً فرمایا گیا جنازہ میں شرکت کرنے کے والوں کو جنازہ سے پیچھے رہنا چاہیے اس سے آگے چلنا ممنوع ہے،ابن ماجہ میں روایت حضرت ابن مسعود ہے کہالجنازۃ متبوعۃ لیس بتابعۃ لیس منا من تقدمھا۔معلوم ہوا کہ جنازہ کے پیچھے چلے یہ ہی احناف کا مذہب ہے،یہاں جنازہ کے ساتھ جانے سے مراد ہے نماز جنازہ پہنچانا،دفن کرنا کامل اتباع یہ ہی ہے۔(مرقات و اشعہ)۵؎یعنی زندگی بھر ہر مسلمان سے وہ برتاوا کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو الله تعالٰی اگر یہ نعمت نصیب کردے تو مسلمانوں سے لڑائیاں جھگڑے سب ختم ہوجائیں۔شعر
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو کلام ایسا کہ جو کوئی تم سے کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
دوسرا شاعر کہتا ہے!
آنچہ برخود نہ پسندی بہ دیگراں مپسند

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4643