Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4631

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتّٰى تَحَابُّوا أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُموهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أولا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السلام بينكم» رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم جنت میں نہ جاؤ گے حتی کہ مؤمن بن جاؤ اور مؤمن نہ بنو گے ۱∞؎حتی کہ آپس میں محبت کرو ۲؎کیا میں تمہیں اس پر رہبری نہ کروں کہ جب تم وہ کرلو تو اس میں محبت کرنے لگو اپنے درمیان سلام پھیلاؤ ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںلاتؤمنونہے نون کے ساتھ،جن نسخوں میںلا تؤمنواہے وہاں ان کا گرانا مجانست کی وجہ سے ہے کہ چونکہحتی تؤمنوامیں نون نہ تھا تو یہاں بھی نہ لائے،مرقات نے فرمایا کہ عربی میں کبھی نفی بمعنی نہیں ہوتا ہے کبھی برعکس۔
۲
؎یعنی کمال ایمان مسلمانوں کی آپس کی محبت سے نصیب ہوتا ہے،آپس کی عداوتیں بہت سے گناہ بلکہ کبھی کفر کا موجب ہوجاتی ہیں۔
۳
؎سلام پھیلانے کے وہ ہی معنی ہیں جو ابھی ذکر ہوئے کہ ہر مسلمان کو سلام کرے جان پہچان والا ہو یا انجان۔تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کی عداوت مٹانے محبت پیدا کرنے کے لیے سلام مصافحہ ایک اکسیر ہے حضور کا فرمان بالکل ٹھیک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4631