Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4634

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على غلمان فسلم عليهم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم چند لڑکوں پرگزرے تو انہیں ۱∞؎سلا م کیا۔(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر گزرنے والا بڑا ہو اور بیٹھا ہوا چھوٹا یا گزرنے والا ایک ہو اور بیٹھے ہوئے بچے زیادہ توگزرنے والا اور تھوڑی جماعت والا سلام کرے،یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ چھوٹے بچے جو سمجھدار ہوں انہیں بھی سلام کیا جاوے،اگر کسی جماعت میں چھوٹے بڑے مخلوط ہوں اور انہیں کوئی سلام کرے بچہ جواب دے دے تو سب کا فرض ادا ہوجائے گا جیساکہ اگر بچہ نماز جنازہ پڑھ لے تو فرض ادا ہوگا۔اجنبیہ جوان حسینہ عورت کو سلام کرنا ممنوع ہے،اپنی محرم عورت یا بیوی یا بوڑھی عورت کو سلام کرنا بالکل جائز ہے،یہ ہی حکم جواب سلام کا ہے اجنبیہ عورت اجنبی مرد کے سلام کا جواب نہ دے،یہ اجنبی اس عورت کے سلام کا جواب دیدے،یہ مسائل کتب فقہ اور مرقات میں اسی جگہ دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4634