Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4659

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهٗ أَمَرَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ: «إِنِّي مَا آمَنُ يَهُودَ عَلٰى كِتَابٍ» . قَالَ: فَمَا مَرَّ بِيَ نِصْفُ شَهْرٍ حَتّٰى تَعَلَّمْتُ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلٰى يَهُودَ كَتَبْتُ وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهٗ كِتَابَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتعلم السريانية. وفي رواية: إنه أمرني أن أتعلم كتاب يهود وقال: «إني ما آمن يهود على كتاب» . قال: فما مر بي نصف شهر حتى تعلمت فكان إذا كتب إلى يهود كتبت وإذا كتبوا إليه قرأت له كتابهم. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی خط و کتابت سیکھ لوں اور فرمایا کہ میں کسی تحریر میں یہود پر مطمئن نہیں ۲؎فرماتے ہیں کہ مجھ پر آدھا مہینہ نہیں گزرا حتی کہ میں نے سیکھ لی تو جب حضور یہود کو لکھتے تو میں لکھتا اور جب وہ حضور کو کچھ لکھتے تو حضور کی خدمت میں ان کا خط میں پڑھتا ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎سریانی زبان وہ ہے جس میں توریت شریف نازل ہوئی،یہود عمومًا یہ ہی زبان بولتے اور لکھتے تھے،سریانی زبان عبرانی کے مشابہ یا اس کی شاخ ہے۔(اشعہ)اب یہ زبانیں دنیا سے مٹ چکیں صرف ان کے نام رہ گئے کسی جگہ نہیں بولی جاتیں جیسے ہندوؤں کی سنسکرت کہ دنیا سے مٹ چکی کہیں نہیں بولی جاتی،سریانی عبرانی زبانوں کی جگہ عربی نے لے لی۔
۲
؎یعنی ہم یہود کو تبلیغ کرنے کے لیے انہیں خطوط لکھنا بھی چاہتے ہیں اور ان کے جوابات ملاحظہ کرنا بھی چاہتے ہیں،اگرلکھنے پڑھنے کا کام یہود مدینہ سے لیا جاوے تو ان کی خیانت کا اندیشہ ہے کہ ہم کچھ لکھوائیں وہ کچھ لکھ دیں یا یہود کے خطوط میں کچھ لکھا ہو یہ کچھ پڑھ دیں لہذا یہ دونوں کام تم خود کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کی زبان سیکھنا ممنوع نہیں بلکہ ضرورت پر اس کا حکم ہے جیسے آج انگریزی یا فرنچ زبانیں ضرورت کے لیے سیکھی جاویں۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں جب حضور جانوروں،پتھروں،کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے،یہ حکم عالی امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ امراء و سلاطین اپنے ہاں دوسری قوموں کی زبان دانی رکھیں بلکہ خود اپنے لوگوں کو ان کی زبان سکھائیں زبان کوئی بری نہیں سب رب تعالٰی کی طرف سے ہیں،فرماتاہے:"وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ
۳
؎صرف پندرہ دن میں سریانی زبان کما حقہ سیکھ لینا یا حضرت زید کی ذکاوت سے ہے یا حضور صلی الله علیہ وسلم کے معجزے سے۔اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہوں کے ہاں ترجمان رہنے چاہئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4659