Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4638

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عائشةَ قَالَتْ: اِسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللّٰهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهٖ » قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ»وَفِي رِوَايَةٍ: «عَلَيْكُمْ» وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَاوَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ. قَالَتْ: إِنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِي صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ. قَالَ: «وَعَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَهْلًا يَا عَائِشَةُ! عَلَيْكِ بالرِّفقِ ، وإِيَّاكَ وَالْعُنْفَ والفُحْشَ » . قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: "أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ»وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ. قَالَ: «لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحبُّ الفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ »

وعن عائشة قالت: استأذن رهط من اليهود على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم. فقلت: بل عليكم السام واللعنة. فقال: «يا عائشة إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله » قلت: أولم تسمع ما قالوا؟ قال: «قد قلت وعليكم»وفي رواية: «عليكم» ولم يذكر الواو (متفق عليه) وفي رواية للبخاري. قالت: إن اليهود أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليك. قال: «وعليكم» فقالت عائشة: السام عليكم ولعنكم الله وغضب عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « مهلا يا عائشة! عليك بالرفق ، وإياك والعنف والفحش » . قالت: أولم تسمع ما قالوا؟ قال: "أولم تسمعي ما قلت رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في»وفي رواية لمسلم. قال: «لا تكوني فاحشة فإن الله لا يحب الفحش والتفحش »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے فرماتی ہیں کہ یہود کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی تو بولے السام علیکم ۱∞؎تو میں نے کہا بلکہ تم پر موت و لعنت پڑے ۲؎تو حضور نے فرمایا اے عائشہ الله رحیم ہے ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے۳؎میں نے کہا کیا آپ نے وہ نہ سنا جو انہوں نے کہا تھا،فرمایا میں نے کہہ دیا اور تم پر ۴؎اور ایک روایت میں ہے تم ہی پر یعنی واؤ کا ذکر نہیں ۵؎(مسلم،بخاری) اور بخاری کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ یہود نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو بولے السام علیک حضور نے فرمایا وعلیکم تو جناب عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا موت ہو تم پر اور تم پر خدا لعنت کرے غضب کرے ۶؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ٹھہرو نرمی لازم کرو اور سختی اور فحش سے بچو ۷؎انہوں نے عرض کیا، کیا آپ نے نہ سنا جو انہوں نے کہا فرمایا کیا تم نے نہ سنا جو میں نے کہا میں نے ان پر ہی لوٹادیا تو میری دعا ان کے بارے میں قبول ہوگی اور ان کی دعا میرے متعلق نہ قبول ہوگی ۸؎اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم فحش گو نہ بنو ۹؎کیونکہ الله تعالٰی فحش کہنے کو پسند نہیں کرتا ۱۰؎

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ یہود مدینہ تھے جو حضور انور سے ملنے آئے تھے۔معلوم ہوا کہ کفار سے ملنا انہیں گھر میں آنے کی اجازت دینا جائز ہے خصوصًا جب ان کو تبلیغ کرنے کے لیے ہوں ان بدنصیبوں نے حضور انور کے تمام اہلِ بیت کو کوسا اس لیے علیکم کہا اس کے جواب میں حضور انور نے فرمادیا وعلیکم،جناب عائشہ سمجھیں کہ حضور نے ان کی بکواس میں غور نہیں فرمایا اس لیے اگلا کلام آپ نے خود کیا
۲
؎ام المؤمنین کا یہ غضب و غصہ حضور کی والہانہ محبت کی بنا پر تھا کہ تم نے محبوب کو یہ کیوں کہا۔
۳
؎لہذا تم ان آنے والوں پر نرمی کرو۔خیال رہے کہ جنگ و مناظرہ میں کفار پر سختی محبوب ہے مگر جب وہ ہمارے گھر ہم سے ملنے آویں تب ان پر نرمی کی جاوے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ "وَ اغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"مختلف مقامات کے مختلف احکام ہوتے ہیں۔
۴
؎یعنی ہم نے خود اپنا بدلہ لیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم پر ہی پڑے یہ بدلہ کافی ہے۔حضور انور نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی وہ بھی مہمان کفار کے ساتھ ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے دشمنوں پر سختی کرنا عبادت ہے حضور مہمان کفار کی خاطر تواضع کرتے تھے لہذا اس حدیث سے یہ دھوکا نہ دیا جائے کہ حضور کے دشمنوں پر نرمی کرنی چاہیے مہمان کا حکم کچھ اور ہے۔
۵
؎ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ وعلیکم میں واؤ جمع کے لیے نہیں بلکہ بمعنیبلیہے لہذا وعلیکم کے معنی یہ نہیں کہ ہم پر اور تم پر دونوں پر موت واقع ہو بلکہ معنی یہ ہیں ہم پر نہیں بلکہ تم پر موت آئے اور واؤ نہ ہونے کی صورت میں تو معنی بالکل ظاہر ہیں۔
۶
؎یعنی اس روایت میں لعنت کے ساتھ غضب کی زیادتی ہے کہ ام المؤمنین نے انہیں تین بد دعائیں دیں: موت کی،لعنت کی،الله تعالٰی کے غضب کی۔
۷
؎عنفسے مراد ہے دل کی سختی،فحش سے مراد ہے زبان کی سختی یعنی دل و زبان دونوں نرم رکھو یہ نرمی صرف مہمان کی وجہ سے ہے ورنہ ان ہی ام المؤمنین کے والد ماجد حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ نے حدیبیہ میں صلح کی گفتگو کے موقعہ پر ایک کافر سے کہا تھاامسس بذکر اللات∞،اللات ∞یہ ہے"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ"کا ظہور رضی الله تعالٰی عنہ۔
۸
؎یعنی اس سودے میں انہیں کو گھاٹا رہا۔
۹
؎یعنی تمہارے منہ سے کبھی فحش بات نہ نکلے،گالی کوسنا،غیبت وغیرہ کہ تمہاری زبان ان باتوں کے لیے نہیں بنی،تم صدیقہ ہو تمہاری زبان سے ہر بات سچی بھلی نکلے۔شعر
جو بات کہو منہ سے وہ اچھی ہو بھلی ہو کھٹی نہ ہو کڑوی نہ ہو مصری کی ڈلی ہو
۱۰
؎یعنی ان دونوں سے رب تعالٰی ناراض ہے۔خیال رہے کہ فحش سے مراد بری بات کا عادی ہونا،تفحشسے مراد ہے بہ تکلف بری بات کہنا کہ اس کی عادت تو نہ ہو مگر دل پر جبر کرکے بری بات منہ سے نکالی جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4638