Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4635

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تَبْدَؤُواالْيَهُودَ وَلَا النَّصَارٰى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلٰى أَضْيَقِهٖ»

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تبدؤوااليهود ولا النصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ یہودیوں عیسائیوں پر سلام کی ابتداء نہ کرو ۱∞؎اور جب تم ان میں سے کسی راستہ میں ملو تو تنگ راستہ کی طرف انہیں مجبور کرو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سارے کفار کا یہی حکم ہے ذمی ہوں یا حربی کہ ان کو مسلمان بلاضرورت سلام نہ کرے کہ سلام میں اظہار احترام ہے اور کفار کا احترام درست نہیں،مرتدین بدمذہبوں کا حکم بھی یہی ہے ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔ (اشعۃ اللمعات)۲؎یعنی مسلمان راستہ میں اس طرح ہجوم کر کے چلیں کہ ذمی کفار کنارہ پر چلنے پر مجبور ہوجائیں اسلام کی شان ظاہر کرنے کے لیے بشرطیکہ کنارہ راہ پر غار یا خارنہ ہوں،انہیں غار یا خار میں پھنسا دینا ان کو ایذا دینا ہے اور ذمی کافر کو ایذا دینا ممنوع ہے۔ (مرقات)مستامن کفار اگر ہمارے مہمان بن جائیں یا ان کو بلایا جاوے تو ان کا مہمان کفار کی خاطر ہے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں کفاربھی مسلمانوں سے ایسا بلکہ اس سے بدتر سلوک کرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4635