Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4653

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السلام قبل الكلام» رواه الترمذي وقال: هذا حديث منكر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلام کلام سے پہلے ہے ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث منکر ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎سلام تین قسم کے ہیں: سلام اذن یہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہے اجازت داخلہ حاصل کرنے کے لیے،سلام تحیۃیہ گھر میں داخل ہونے اور کلام کرنے سے پہلے ہے،سلام وداع یہ گھر سے رخصت ہوتے وقت۔یہاں سلام تحیت مراد ہے یہ کلام سے پہلے چاہئے تاکہ تحیت باقی رہے جیسے تحیۃ المسجد کے نفل کہ وہ بیٹھنے سے پہلے پڑھے جاویں۔
۲
؎اس کی اسناد میں ایک راوی عتبہ ابن عبدالرحمن ہے وہ خود بھی ضعیف ہے اور اس کا شیخ محمد ابن زادان ہے جو بہت ہی ضعیف ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس اسناد میں منکر ہے معنًی یہ حدیث صحیح ہے بہت اسنادوں سے مروی ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4653