Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4654

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ نَقُولُ: أَنْعَمَ اللّٰهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعَمَ صَبَاحًا. فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ نُهِينَا عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عمران بن حصين قال: كنا في الجاهلية نقول: أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا. فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہتے تھے الله تیری آنکھ ٹھنڈی کرے سویرا اچھا ہو جب اسلام آیا تو ہم اس سے روک دیئے گئے ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اور اس کی بجائے ہم کو اسلامی سلام کا حکم دیا گیا۔معلوم ہوا کہ سوا اسلامی سلام کے اور سلام ممنوع ہے جیسے آداب عرض یا تسلیمات عرض یا خدا حافظ یا یہ کہنا کہ یا علی مدد وغیرہ سب ممنوع ہیں،ہاں اگر اولاً سلام کرے پھر یہ الفاظ کہے تو حرج نہیں، دیکھو مرقات۔فارسی میں کہا جاتا ہے زی ہزار سال یہ سب ممنوع ہیں۔ (اشعہ)اسلامی سلام بہت ہی جامع ہے۔ہندوانی سلام رام رام،سیتا رام،انگریزی سلام گڈ مارننگ نہایت بے ہودہ اور بے معنی ہیں۔اسلامی سلام میں سلامتی کی دعا ہے سلامتی جان، مال،عزت،اولاد،زندگی قبر و حشر ہر سلامتی کو شامل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4654