Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4665

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لِفُلَانٍ فِيْ حَائِطِيْ عَذْقٌ وَأَنَّهٗ قَدْ آذَانِيْ مَكَانُ عَذْقِهٖ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ بِعْنِيْ عَذْقَكَ قَالَ: لَا. قَالَفَهَبْ لِي . قَالَ: لَا. قَالَ: فَبِعْنِيْهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن جابر قال: أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لفلان في حائطي عذق وأنه قد آذاني مكان عذقه فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم: أن بعني عذقك قال: لا. قالفهب لي . قال: لا. قال: فبعنيه بعذق في الجنة ؟ فقال: لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما رأيت الذي هو أبخل منك إلا الذي يبخل بالسلام.رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا فلاں شخص کی کھجور کی شاخ میرے باغ میں ہے ۱∞؎اور اس کی شاخ نے مجھے بہت دکھ دیا ہے ۲؎تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ میرے ہاتھ اپنی یہ شاخ فروخت کردے ۳؎وہ بولا نہیں ۴؎فرمایا تو مجھے ہبہ کردے ۵؎بولا نہیں فرمایا تو اسے میرے ہاتھ جنت کے درخت کی عوض بیچ دے ۶؎بولا نہیں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا شخص نہ دیکھا جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو ۷؎سواء اس کے جو سلام میں بخل کرے ۸؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ میرا باغ اس کے باغ سے متصل ہے ایک مشترک دیوار بیچ میں ہے،دیوار کی اس طرف اس کی کھجور کا درخت ہے اس درخت کی ایک شاخ دیوار کی اس جانب میرے باغ میں ہے۔حائطوہ باغ کہلاتا ہے جو دیواروں سے گھرا ہو،عرب کے اکثر باغ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
۲
؎کیونکہ یہ شخص اس شاخ کی وجہ سے دیوار پر چڑھتا ہے اور اگر اس شاخ کے پھل میری طرف گرجاویں تو انہیں لینے کے لیے میرے باغ میں آتا ہے ان حرکتوں سے مجھے اورمیرے بچوں کو تکلیف ہوتی ہے،عرب میں باغ والے کا مکان بھی باغ میں ہوتا ہے جہاں اس کے بال بچے رہتے ہیں،اس پڑوسی کی اس آمدورفت سے اسے یقینًا دکھ پہنچتا تھا۔
۳
؎یعنی اس شاخ یا اس درخت کو ہمارے ہاتھ کچھ پیسوں کی عوض فروخت کردو تاکہ ہم وہ شاخ یا وہ درخت کٹوادیں تاکہ اس شخص کی تکلیف دور ہو،چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم سب مسلمانوں کے ولی ہیں اس لیے فرمایا یعنی ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔
۴
؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا حکم ماننا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ نہ ماننے والا یا فاسق ہوگا یا کافر مگر حضور کے مشورے کا ماننا فرض نہیں نہ قبول کرنے کا حق ہے،یہاں فرمانا مشورہ تھا حکم نہ تھا۔دوسرے یہ کہ حاکم بادشاہ بھی کسی کا مال بغیر اس کی مرضی کے فروخت نہیں کرسکتا بیع میں مالک کی رضا ضروری ہے،حضور انور نے اس سے فرمایا فروخت کردے خود فروخت نہ فرمادیا رب فرماتا ہے:"اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ"۔اور ایک سائل کا کمبل و پیالہ نیلام فرمادینا یہ حضور کی ولایت عامہ کی بنا پر تھا جیسے مالک اپنے غلام کا مال یا باپ اپنے چھوٹے بچے کا مال فروخت کرسکتا ہے۔ غرضکہ حضور کے دو عمل دو حیثیت سے ہے۔ابی اللحم کے ہاں حضور کی دعوت تھی ایک شخص کو ساتھ لے گئے تو مالک سے اجازت لی،حضرت طلحہ کے ہاں سارے خندق والوں کو مہمان بنا کر لے گئے،وہاں فتویٰ یہاں اپنی ملکیت کا اظہار صلی الله علیہ و سلم۔
۵
؎بغیر دنیاوی عوض کے دیدے یہ ہبہ درحقیقت اس باغ والے کے لیے ہوتا،ھبلیفرمانا اس وجہ سے ہے جو ابھی عرض کی گئی یاھب لیکے معنے یہ ہیں کہ میری خاطر اس باغ والے کو ہبہ کردے تو یہ سفارش ہے نہ کہ حکم شرعی۔(مرقات)۶؎معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان تھا۔مطلب یہ ہے کہ تو اسے سفارش سے بطور صدقہ دیدے میں تجھے اسکی عوض جنت کا باغ عطا کرتا ہوں۔حضور جنت کے مالک ہیں وہاں کی کوئی چیز کسی کو کسی کی عوض دے سکتے ہیں۔
۷
؎شاید یہ شخص کوئی بدوی یعنی جنگلی شخص تھا جسے ان چیزوں کی قدر نہ تھی نہ آداب مجلس سے واقف تھا ورنہ جنت کی عوض درخت کی شاخ کا بک جانا اچھا سودا تھا۔
۸
؎یعنی تجھ سے بڑھ کر بخیل وہ ہے جو مسلمان بھائی کو بلا وجہ سلام نہ کرے مفت کا ثواب کھودے یا وہ ہے جو مجھ پر سلام نہ بھیجے،دوسری توجیہ زیادہ قوی ہے۔(مرقات)اس کی تائید اس حدیث سے ہے کہ بخیل وہ جو میرا ذکر سنے اور مجھ پر سلام نہ بھیجے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4665