- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 4665
باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4665
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لِفُلَانٍ فِيْ حَائِطِيْ عَذْقٌ وَأَنَّهٗ قَدْ آذَانِيْ مَكَانُ عَذْقِهٖ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ بِعْنِيْ عَذْقَكَ قَالَ: لَا. قَالَفَهَبْ لِي . قَالَ: لَا. قَالَ: فَبِعْنِيْهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الإِيمَانِ
وعن جابر قال: أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لفلان في حائطي عذق وأنه قد آذاني مكان عذقه فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم: أن بعني عذقك قال: لا. قالفهب لي . قال: لا. قال: فبعنيه بعذق في الجنة ؟ فقال: لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما رأيت الذي هو أبخل منك إلا الذي يبخل بالسلام.رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا فلاں شخص کی کھجور کی شاخ میرے باغ میں ہے ۱∞؎اور اس کی شاخ نے مجھے بہت دکھ دیا ہے ۲؎تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ میرے ہاتھ اپنی یہ شاخ فروخت کردے ۳؎وہ بولا نہیں ۴؎فرمایا تو مجھے ہبہ کردے ۵؎بولا نہیں فرمایا تو اسے میرے ہاتھ جنت کے درخت کی عوض بیچ دے ۶؎بولا نہیں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا شخص نہ دیکھا جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو ۷؎سواء اس کے جو سلام میں بخل کرے ۸؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح حدیث
۱∞؎اس طرح کہ میرا باغ اس کے باغ سے متصل ہے ایک مشترک دیوار بیچ میں ہے،دیوار کی اس طرف اس کی کھجور کا درخت ہے اس درخت کی ایک شاخ دیوار کی اس جانب میرے باغ میں ہے۔حائطوہ باغ کہلاتا ہے جو دیواروں سے گھرا ہو،عرب کے اکثر باغ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
۲؎کیونکہ یہ شخص اس شاخ کی وجہ سے دیوار پر چڑھتا ہے اور اگر اس شاخ کے پھل میری طرف گرجاویں تو انہیں لینے کے لیے میرے باغ میں آتا ہے ان حرکتوں سے مجھے اورمیرے بچوں کو تکلیف ہوتی ہے،عرب میں باغ والے کا مکان بھی باغ میں ہوتا ہے جہاں اس کے بال بچے رہتے ہیں،اس پڑوسی کی اس آمدورفت سے اسے یقینًا دکھ پہنچتا تھا۔
۳؎یعنی اس شاخ یا اس درخت کو ہمارے ہاتھ کچھ پیسوں کی عوض فروخت کردو تاکہ ہم وہ شاخ یا وہ درخت کٹوادیں تاکہ اس شخص کی تکلیف دور ہو،چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم سب مسلمانوں کے ولی ہیں اس لیے فرمایا یعنی ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔
۴؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا حکم ماننا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ نہ ماننے والا یا فاسق ہوگا یا کافر مگر حضور کے مشورے کا ماننا فرض نہیں نہ قبول کرنے کا حق ہے،یہاں فرمانا مشورہ تھا حکم نہ تھا۔دوسرے یہ کہ حاکم بادشاہ بھی کسی کا مال بغیر اس کی مرضی کے فروخت نہیں کرسکتا بیع میں مالک کی رضا ضروری ہے،حضور انور نے اس سے فرمایا فروخت کردے خود فروخت نہ فرمادیا رب فرماتا ہے:"اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ"۔اور ایک سائل کا کمبل و پیالہ نیلام فرمادینا یہ حضور کی ولایت عامہ کی بنا پر تھا جیسے مالک اپنے غلام کا مال یا باپ اپنے چھوٹے بچے کا مال فروخت کرسکتا ہے۔ غرضکہ حضور کے دو عمل دو حیثیت سے ہے۔ابی اللحم کے ہاں حضور کی دعوت تھی ایک شخص کو ساتھ لے گئے تو مالک سے اجازت لی،حضرت طلحہ کے ہاں سارے خندق والوں کو مہمان بنا کر لے گئے،وہاں فتویٰ یہاں اپنی ملکیت کا اظہار صلی الله علیہ و سلم۔
۵؎بغیر دنیاوی عوض کے دیدے یہ ہبہ درحقیقت اس باغ والے کے لیے ہوتا،ھبلیفرمانا اس وجہ سے ہے جو ابھی عرض کی گئی یاھب لیکے معنے یہ ہیں کہ میری خاطر اس باغ والے کو ہبہ کردے تو یہ سفارش ہے نہ کہ حکم شرعی۔(مرقات)۶؎معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان تھا۔مطلب یہ ہے کہ تو اسے سفارش سے بطور صدقہ دیدے میں تجھے اسکی عوض جنت کا باغ عطا کرتا ہوں۔حضور جنت کے مالک ہیں وہاں کی کوئی چیز کسی کو کسی کی عوض دے سکتے ہیں۔
۷؎شاید یہ شخص کوئی بدوی یعنی جنگلی شخص تھا جسے ان چیزوں کی قدر نہ تھی نہ آداب مجلس سے واقف تھا ورنہ جنت کی عوض درخت کی شاخ کا بک جانا اچھا سودا تھا۔
۸؎یعنی تجھ سے بڑھ کر بخیل وہ ہے جو مسلمان بھائی کو بلا وجہ سلام نہ کرے مفت کا ثواب کھودے یا وہ ہے جو مجھ پر سلام نہ بھیجے،دوسری توجیہ زیادہ قوی ہے۔(مرقات)اس کی تائید اس حدیث سے ہے کہ بخیل وہ جو میرا ذکر سنے اور مجھ پر سلام نہ بھیجے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4665