Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4656

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الحَضْرَمِيِّ أَنَّ الْعَلَاءَ الْحَضْرَمِيَّ كَانَ عَامِلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِليْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي العلاء بن الحضرمي أن العلاء الحضرمي كان عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان إذا كتب إليه بدأ بنفسه. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالعلاء حضرمی سے کہ ابو العلاء حضرمی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عامل تھے ۱∞؎اور جب آپ ان کی طرف لکھتے تو اپنی ذات سے ابتداء کرتے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎علاءحضرمی کا نام عبدالله ہے،حضر موت کے باشندے تھے،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے بحرین کے گورنر تھے،حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم نے ان کا عہدہ بحال رکھا،چنانچہ آپ تا وفات اسی عہدے پر رہے،بعض نے فرمایا کہ آپ کی وفات عہدِ صدیقی میں ہے،مرقات نے فرمایا کہ ۱۴؁∞ چودہ ہجری میں آپ نے وفات پائی اور ابوالعلاء کا نام زید ابن عبدالله ہے،کنیت ابوالعلاء،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ابن العلاء ہے۔
۲
؎یعنی حضرت علاء جب بحرین سے حضور انور کی خدمت میں کوئی عریضہ لکھتے تو پہلے اپنا نام پھر مکتوب الیہ کا نام لکھتے تھے کیونکہ یہ ہی سنت رسول الله ہے،حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بلقیس کو خط لکھا تو لکھا "اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ"جب حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے شاہ روم کو فرمان عالی لکھا تو لکھامن محمد رسول الله الی ھرقل عظیم الروم،طریقہ خط لکھنے کا یہ چاہیے کہ اپنا نام لکھے،پھر جس کو خط لکھنا ہے اس کا نام ہو،پھر کچھ القاب،پھر سلام،پھر مقصد کی تحریر۔ خیال رہے کہ یہ چیز سلام کی تمہید ہوتی ہے اس لیے اسے باب سلام میں لائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4656