Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2083

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن عائشة قالت: قال رسول الله-صلى الله عليه وسلم: "تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق تاریخوں میں ڈھونڈوا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے اتنامعلوم ہوا کہ شبِ قدر ہر سال ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور ہوتی بھی ہے آخری عشرہ میں،وہ بھی طاق تاریخوں میں،قرآن کریم بھی اس کی تائید فرمارہا ہے کیونکہ ایک جگہ ارشاد ہے:"شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ"۔جس سے معلوم ہوا کہ نزول قرآن ماہ رمضان میں ہے دوسری جگہ ارشاد ہے:"اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ"جس سے معلوم ہوا کہ قرآن شب قدر میں نازل ہوا یہ دونوں آیتیں جب ہی جمع ہوسکتی ہیں جب کہ شبِ قدر رمضان میں ہو۔خیال رہے کہ شبِ قدر کو رب تعالٰی نے ہم سے چھپالیا تاکہ ہم اس کی تلاش میں بہت راتوں میں عبادات کریں۔تلاش کرنے سے مرادعبادتیں کرنا ہے۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا علم دیا مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی۔اسمِ اعظم کی طرح عوام سے اسے چھپا رکھا تاکہ اس کی تلاش رہے اور اچھی چیز کی تلاش بھی عبادت ہے لہذا یہ چھپانا ہمارے لیے بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2083