Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2091

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُوْلُ فِيْهَا؟ قَالَ: "قُوْلِيْ: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعفُ عَنِّيْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهٗ.

عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله ! أرأيت إن علمت أي ليلة ليلة القدر ما أقول فيها؟ قال: "قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني". رواه أحمد وابن ماجه والترمذي وصححه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول افرمائیے اگر میں جان لوں کہ شب قدر کون سی رات ہے تو اس میں کیا پڑھوں ۱؎فرمایا یہ عرض کرو الٰہی تو معاف فرمانے والا ہے معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے ۲؎(احمد، ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کبھی میری آنکھوں سے حجاب اٹھ جائیں اور میں شجروحجر کو سجدہ کرتے،فرشتوں کو اترتے،شب قدر کا نور پھیلتے،روح فرشتہ کو زمین پر آتے دیکھوں جس سے معلوم کرلوں کہ یہ شبقدر ہے تو میں اس میں دعا کیا مانگوں۔معلوم ہوا کہ بعض اولیاء کبھی شبقدر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں مگر انہیں بھی چھپانے کا حکم ہے کہ شب قدر کو چھپانا سنت ہے۔(مرقاۃ)
۲
؎یہ دعا مختصر ہے اور بہت جامع ہے کیونکہ جب رب تعالٰی نے بندے کو معافی دے دی تو سب کچھ دے دیا۔خیال رہے کہ گنہگار گناہوں سے معافی مانگتے ہیں اور نیک کار نیکی کرکے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں کہ خداوند تیری بارگاہ کے لائق نیکی نہ ہوسکی تو معاف فرمانے والا ہے معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے۔شعر
زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از اطاعت استغفار
حضرت عائشہ صدیقہ رب تعالٰی کے فضل سے گناہوں سے محفوظ ہیں،پھر بھی معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، گناہوں سے معافی نہیں بلکہ وہ معافی جو عرض کی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2091