Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2093

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: "هِيَ فِيْ كُلِّ رَمَضَانَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ: رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ مَوْقُوْفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ.

وعن ابن عمر قال: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن ليلة القدر فقال: "هي في كل رمضان". رواه أبو داود وقال: رواه سفيان وشعبة عن أبي إسحاق موقوفا على ابن عمر.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے ۱؎(ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث سفیان و شعبہ نے ابو اسحاق سے حضرت ابن عمر پرموقوف روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس جواب کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہمیشہ شبِ قدر رمضان میں ہوگی اس کے علاوہ دوسرے مہینہ میں نہیں ہوگی نہ تو یہ ہوگا کہ کوئی سال شب قدر سے بالکل خالی رہے کہ کسی مہینہ میں شبقدر نہ ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سواءکسی اور مہینہ میں ہو جاوے۔دوسرے یہ کہ رمضان کے ہر حصہ میں شب قدر ہوسکتی ہے آخری عشرہ سے خاص نہیں،کبھی شروع تاریخوں میں ہوگی،کبھی درمیانی میں اور کبھی آخری تاریخوں میں۔یہ حدیث ان علماء کی دلیل ہے جوکہتے ہیں کہ ہمیشہ شبقدر رمضان ہی میں ہوگی مگر تاریخ مقرر نہیں کبھی کسی تاریخ میں اور کبھی کسی میں۔و الله ورسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2093