Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2090

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهٗ، وَأَحْيَا لَيْلَهٗ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنها قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا دخل العشر شد مئزره، وأحيا ليله، وأيقظ أهله. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہوجاتے ۱؎راتوں کو خود جاگتے اور گھر والوں کو جگاتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎میزر ازارسے بنا،بمعنی تہبند یا پائجامہ،لفظی معنے ہوئے اپنا تہبند باندھ لیتے۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ہے شاق کاموں کے لیے تیار ہوجاتے جیسے کہا جاتا ہے اٹھ باندھ کمر کیا بیٹھا ہے اور ہوسکتاہے کہ مقصد یہ ہو کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں ازواج پاک سے قطعًا علیحدہ رہتے اعتکاف کی وجہ سے بھی اور زیادہ عبادتوں میں مشغولیت کے سبب سے بھی۔
۲
؎یعنی اس عشرہ کی راتوں میں قریبًا تمام رات جاگتے تھے تلاوت قرآن ،نوافل،ذکر اللہ میں راتیں گزارتے تھے اور ازواج پاک کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رات بیداری و عبادت کبھی نہ کیں۔خیال رہے کہ یہاںاحیاءٌسے مراد ہے عبادت کے لیے جاگنا اورلیلہاس کا ظرف ہے یعنی رات بھر عبادت کے لیے جاگتے،ہوسکتا ہے کہلیلہمفعول بہ ہو یعنی رات کے اوقات کو اپنی عبادت سے زندہ کردیتے یا زندہ رکھتے جو وقت اللہ کی یاد میں گزرے وہ زندہ ہے جو غفلت میں گزرے وہ مردہ۔جامع صغیر میں ہے کہ جو عشاء کی نماز جماعت سے پڑھے اس نے گویا شب قدر میں عبادت کی،طبرانی نے بروایت حضرت ابو امامہ روایت کی کہ جو نماز عشاء جماعت سے پڑھے وہ گویا آدھی رات عبادت گزار رہا اور جو فجر بھی جماعت سے پڑھ لے تو گویا وہ تمام رات عابد رہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2090