Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2096

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيْلُ عليه السلام فِيْ كُبْكُبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يُصَلُّوْنَ عَلٰى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدِهِمْ -يَعْنِيْ يَوْمَ فِطْرِهِمْ- بَاهٰى بِهِمْ مَلَائِكَتَهٗ فَقَالَ: يَا مَلَائِكَتِيْ! مَا جَزَاءُ أَجِيْرٍ وَفَّى عَمَلَهٗ؟ قَالُوْا: رَبَّنَا جَزَاؤُهٗ أَنْ يُوَفَّى أَجْرَهٗ. قَالَ: مَلَائِكَتِيْ! عَبِيْدِيْ وَإِمَائِيْ قَضَوْا فَرِيْضَتِيْ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَرَجُوْا يَعُجُّوْنَ إِلَى الدُّعَاءِ، وَعِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ وكَرَمِيْ وَعُلُوِّيْ وَارْتفَاعِ مَكَانِيْ لأُجِيْبَنَّهُمْ. فَيَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، وَبَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ. قَالَ: فَيَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا كان ليلة القدر نزل جبريل عليه السلام في كبكبة من الملائكة، يصلون على كل عبد قائم أو قاعد يذكر الله عز وجل، فإذا كان يوم عيدهم -يعني يوم فطرهم- باهى بهم ملائكته فقال: يا ملائكتي! ما جزاء أجير وفى عمله؟ قالوا: ربنا جزاؤه أن يوفى أجره. قال: ملائكتي! عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم، ثم خرجوا يعجون إلى الدعاء، وعزتي وجلالي وكرمي وعلوي وارتفاع مكاني لأجيبنهم. فيقول: ارجعوا قد غفرت لكم، وبدلت سيئاتكم حسنات. قال: فيرجعون مغفورا لهم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شبِ قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں ۱؎ہر اس کھڑے بیٹھے بندے کو دعائیں دیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کررہا ہو ۲؎پھر جب بندوں کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر فرماتا ہے ۳؎فرماتا ہے اے میرے فرشتوں اس مزدور کی اجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کردے ۴؎عرض کرتے ہیں الٰہی اس کی اجرت یہ ہے کہ اسے پورا ثواب دیا جائے ۵؎فرماتا ہے اے فرشتوں میرے بندے بندیوں نے میرا فریضہ پورا کردیا جوان پر تھا پھردعا ئیں شور مچاتے نکل پڑے ۶؎مجھے اپنی عزت و جلال اپنے کرم اپنی بلندی اپنے غلبہ مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا۷؎پھر فرماتا ہے لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا ۸؎اور تمہاری برائیوں کو خوبیا ں بنادیا ۹؎فرمایا پھر یہ لوگ بخشے ہوئے لوٹتے ہیں ۱۰؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے کہ"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا"۔اس سے پتہ لگا کہ وہاں روح سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں اور ملائکہ سے مراد فرشتوں کی وہ جماعت ہے جو ان کے ساتھ اترتی ہے،یہ جماعت سوائے شبِ قدر کے اور کبھی نہیں اترتی بعض بزرگوں نے کبھی اس جماعت کو دیکھابھی ہے روح کی تفسیریں اور بہت ہیں مگر قوی یہ ہی ہے کہ وہ حضرت جبریل ہیں۔
۲
؎اس تعلیم سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر میں صرف نماز ہی پڑھنا لازم نہیں بلکہ نماز،تلاوت قرآن اورتمام قسم کے ذکر اللہ کئے جائیں پھر نماز نفل کھڑے ہو کر پڑھی جائے یا بیٹھ کر ہر طرح فرشتوں کی دعائیں مل جاتی ہیں۔
۳
؎فرماتاہے اے فرشتو تم نے تو کہا تھا کہ خلافت الہیہ انسان کو کیوں عطا ہورہی ہے یہ تو خون ریزی کرے گا فساد پھیلائے گا دیکھو انسانوں میں ایسے عابدبھی ہیں جو دن کو روزے رکھ کر راتوں کو اس طرح جاگ لیتے ہیں اور ایسی عبادتیں کرلیتے ہیں جو کسی مخلوق سے نہ ہوسکے۔خیال رہے کہ روزہ جہاد اشاعت دین شہادت وغیرہ وہ عبادتیں ہیں جو صرف انسان ہی کر سکتا ہے فرشتوں سے بھی نہیں ہوسکتیں رکوع سجدہ تو عبادات مشترکہ ہیں مگر یہ عبادات انسان سے خاص ہیں اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا:"وَحَمَلَہَا الْاِنۡسٰنُ"جنات سفر حج اور جہاد کی مشقتوں کو کیا جانیں۔
۴
؎یعنی ان بندوں نے رمضان کی عبادات پوری کرلیں روزے،تراویح،اعتکاف،شبِ قدر کی شب بیداری وغیرہ سب کام پورے کرچکے اب بتاؤ ہم کیا کریں ا ور انہیں کیا دیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انسان کا کام تو مرتے وقت پورا ہوتا ہے ابھی یہ کیوں فرمایا گیا،کیونکہ یہاں اس ماہ کی عبادات پوری کرلینا مراد ہے۔
۵
؎کہ یہ تو ان مزدورں کا حق ہے جوتو نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرمالیا ہے آگے جو تو کرم فرمائے تو تیرا کرم ہے جو سب کے وہم گمان سے وراء ہے یہ کلام در پردہ فرشتوں کی سفارش ہے۔خیال رہے کہ فرشتے مؤمنوں کے لیے عمومی دعا تو ہمیشہ کرتے رہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"اورخصوصی دعائیں خاص موقعوں پر کرتے ہیں،یہ سب کچھ اسکا عوض ہے جو انہوں نے بارگاہ الٰہی میں انسانوں کی شکایت کی تھی اسی لیے شبِ قدر میں فرشتے ہی دعائیں کرنے آتے ہیں،اور آج فرشتوں ہی سے یہ خطاب ہے۔
۶
؎اس حدیث سے پتہ لگا کہ عیدالفطر کی نماز جنگل میں نکل کر پڑھنا بہتر ہے اور یہ نماز درحقیقت اس نعمت کا شکریہ ہے کہ جس نے ہمیں رمضان کی عبادات کی توفیق بخشی قرآن کریم فرماتاہے:"وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ"بے روزہ چوروں اور روزہ چھوڑوں اور روزہ توڑوں کو عید کی خوشی منانے کا حق ہی نہیں مگر آج کل عید کی زیادہ خوشی یہ ہی لوگ مناتے دیکھے گئے۔
۷
؎یعنی بعد نماز عید جو دعا مانگیں گے وہ قبول کروں گا معلوم ہوا کہ نماز عید کے بعد دعا ضرور مانگے،اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ نماز عید کے بعد دعا مانگنا بدعت ہے نہیں مانگنا چاہیے۔
۸
؎اس طرح کہ تمہارے سارے گناہ بخش دے،چھوٹے ہوں یا بڑے یہ ہی زیادہ ظاہر ہے۔
۹
؎مرقات نے فرمایا کہ معافی و بخشش تو گنہگاروں کے لیے ہے اور گناہوں کو نیکیاں بنا دیناتوبہ کرنے والوں کے لیے اس کی تائید اس آیت سے ہے"اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-"۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نامۂ اعمال سے گناہ مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں جن پر اجروثواب ملتاہے یہ رب تعالٰی کے کرم سے کوئی بعید نہیں شیخ سعدی فرماتے ہیں ع گاہے بدشنامے خلعت دہند۔
۱۰
؎یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جو عیدگاہ جا کر نماز پڑھتے ہیں رہے وہ لوگ جو وہاں نہیں جاتے جیسے دیہاتی لوگ اور عورتیں وغیرہ ان کی بخشش اس کے بغیر بھی ہوتی ہے جیسے عام مسلمانوں کی بخشش روزہ نماز سے بچوں اور دیوانوں کی بخشش محض کرم سے اس کی عطا ہماری طلب پر موقوف نہیں۔شعر
مانہ بودیم وتقاضا مانبود
لطف توناگفتہ مامے شنید

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2096