Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2085

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "اِلْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ: فِيْ تَاسِعَةٍ تَبْقٰى، فِيْ سَابِعَةٍ تَبْقٰى، فِيْ خَامِسَةٍ تَبْقٰى". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم- قال: "التمسوها في العشر الأواخر من رمضان ليلة القدر: في تاسعة تبقى، في سابعة تبقى، في خامسة تبقى". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو جب نو دن باقی رہیں سات دن باقی رہیں پانچ دن باقی رہیں ان میں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عرب میں دستور ہے کہ ابتدائی مہینہ میں تاریخوں کا اعتبار شروع مہینہ سے کرتے ہیں یعنی پانچویں تاریخ وہ جس سے پہلے چار تاریخیں گزر گئی ہوں،آٹھویں وہ جس سے پہلے مہینہ کے سات دن گزر چکے ہوں مگر مہینہ کے انتہا میں آخر کی طرف سے حساب لگاتے ہیں اس طرح کہ نویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے نو دن باقی ہوں یعنی اکیسویں،ساتویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے سات دن باقی ہوں یعنی تیئیسویں اور اس کے ساتھ لفظتَبْقٰیبول دیتے ہیں یعنی اس کے بعد اتنے روز باقی ہیں اسی محاورے سے یہ فرمان عالی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ شبِ قدر رمضان کی اکیسویں، تیئیسویں ،پچیسویں وغیرہ میں تلاش کرو۔شارحین نے اس جملے کے اور بہت سے معنے کئے ہیں کہ سابعہ سے ستائیسویں شب مراد ہے،تاسعہ سے انتیسویں اور خامسہ سے پچیسویں مگر فقیر نے جو معنی کئے آسان تر ہیں۔و الله ورسولہ اعلم!اس افصح الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا آسان نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2085