Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6196

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلٰى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلٰى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللّٰهِ رَجُلٌ صَالح . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عبد الله بن عمر قال: رأيت في المنام كأن في يدي سرقة من حرير لا أهوي بها إلى مكان في الجنة إلا طارت بي إليه فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن أخاك رجل صالح أو إن عبد الله رجل صالح . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے میں اس کے ساتھ جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے وہاں ہی لے کر اڑ جاتا ہے ۲؎میں نے یہ خواب بی بی حفصہ سے کہی جناب حفصہ نے نبی صلی الله علیہ و سلم پر پیش فرمائی ۳؎تو فرمایا کہ تمہارے بھائی نیک آدمی ہیں یا عبدالله نیک آدمی ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبدالله ابن عمر ابن خطاب قرشی عدوی ہیں،بچپن میں اپنے والد ماجد کے ساتھ ایمان لائے،اول درجہ کے متبع سنت تھے، آپ نے اپنی زندگی میں ایک ہزار غلام آزاد کیے،آپ ہمیشہ عملًا حجاج ابن یوسف کی مخالفت کرتے تھے،حجاج نے کسی کے ذریعہ آپ کے پاؤں میں زہریلا برچھا چبھوا دیا اس سے آپ کی وفات ہوئی،آپ کی ولادت حضور پر وحی کی ابتداء ہونے سے ایک سال پہلے ہوئی،وفات تہتّر میں ہوئی،حضرت زبیر کی شہادت سے تین ماہ بعد چوراسی سال عمر ہوئی، مقام ذی طویٰ میں دفن کیے گئے رضی الله عنہ،خندق کے بعد سارے غزوات میں شریک ہوئے۔
۲
؎یعنی میرے ہاتھ میں ریشمی رومال ہے جو پیروں کا کام دیتا ہے جہاں جانا چاہتا ہوں وہاں اڑائے جاتا ہے اور میں جنت میں ہوں رومال سفید ریشم کا ہے جیساکہ بعض روایات میں ہے۔(مرقات)
۳
؎یعنی حضور انور کی ہیبت کی وجہ سے میں نے یہ خواب براہ راست سرکار سے عرض نہ کی بلکہ اپنی ہمشیرہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے عرض کی انہوں نے حضور صلی الله علیہ و سلم کو سنائی۔
۴
؎یعنی حضرت عبدالله نے جو ریشمی رومال دیکھا ہے وہ ان کے نیک اعمال ہیں،اس کی سفیدی وہ ان کا اخلاص ہے،اس کی صفائی یہ ان کے دل کی صفائی سے لہذا عبدالله بڑے نیک صالح مخلص دیندار ہیں۔خیال رہے کہ جیسے نبی کی خواب وحی ہوتی ہے ویسے ہی نبی کی تعبیر بھی وحی ہوتی ہے لہذا حضرت عبدالله ابن عمر کا مؤمن صالح متقی ہونا وحی الٰہی سے ثابت ہوا،یوسف علیہ السلام نے ان قیدیوں سے فرمایا تھا"قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡهِ تَسْتَفْتِیَانِ"تم نے خواب دیکھی ہو یا نہ دیکھی ہو جو میں نے تعبیر دے دی اس کا فیصلہ ہوگیا۔معلوم ہوا کہ تعبیر نبی رب کی وحی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6196