- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6200
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6200
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قُلْتُ: اللّٰهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتّٰى جَلَسَ إِلٰى جَنْبِي قُلْتُ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ. قُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَكَ لِي فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ: أَو لَيْسَ عِنْدَكُمْ اِبْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادَةِ وَالْمَطْهَرَةِ وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللّٰهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهِ؟ يَعْنِي عَمَّارًا أَوْ لَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهٗ غَيْرُهٗ؟ يَعْنِي حُذَيْفَة. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن علقمة قال: قدمت الشام فصليت ركعتين ثم قلت: اللهم يسر لي جليسا صالحا فأتيت قوما فجلست إليهم فإذا شيخ قد جاء حتى جلس إلى جنبي قلت: من هذا ؟ قالوا: أبو الدرداء. قلت: إني دعوت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسرك لي فقال: من أنت؟ قلت: من أهل الكوفة. قال: أو ليس عندكم ابن أم عبد صاحب النعلين والوسادة والمطهرة وفيكم الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه؟ يعني عمارا أو ليس فيكم صاحب السر الذي لا يعلمه غيره؟ يعني حذيفة. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے علقمہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں شام پہنچا تو میں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نے عرض کیا الٰہی مجھے نیک ساتھی ہم نشین عطا فرما ۲؎پھر میں ایک قوم کے ساتھ گیا ان میں بیٹھا تو ایک بوڑھے بزرگ آئے حتی کہ میرے برابر بیٹھ گئے ۳؎میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا ابوالدرداء ہیں ۴؎میں نے کہا کہ میں نے الله سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ہم نشین نصیب کرے تو الله نے مجھے آپ کو میسر کیا وہ بولے تم کون ہو میں نے کہا میں کوفہ والوں میں سے ہوں ۵؎فرمایا کیا تمہارے پاس ام عبد کے بیٹے نہیں جو حضور کے نعلین اور تکیہ والے ہیں ۶؎اور وضو کے لوٹے والے ۷؎اور تم میں تو وہ بھی ہیں جنہیں الله نے اپنے نبی کی زبان پر شیطان سے امان دی ہے یعنی حضرت عمار ۸؎اور کیا تم میں حضور کے رازدار نہیں جن رازوں کو ان کے سواء کوئی نہیں جانتا ۹؎یعنی حضرت حذیفہ۱۰؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت عبدالله ابن مسعود کے ساتھیوں میں سے ہیں،حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوئے مگر آپ کی زیارت نہ کرسکے(اشعہ)آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲؎یعنی میں نے دمشق کی جامع مسجد میں نفل پڑھ کر یہ دعا کی کہ خدایا میں پردیس میں آیا ہوں مجھے یہاں اچھا ساتھی عطا فرما۔خیال رہے کہ جب کسی جگہ سفر میں جاوے تو وہاں کے نیک لوگوں سے ملنے کی کوشش کرے کسی بزرگ کے مزار پر حاضری دے توان شاءاللهسفر مبارک ہوگا میرا تجربہ ہے۔
۳؎سبحان الله!جنس جنس کے پاس پہنچ گئی الله تعالٰی کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو اہل کو اہل تک پہنچاتے ہیں۔ (مرقات)
۴؎ابوالدرداء مشہور صحابی ہیں،تارک الدنیا اصحاب صفہ میں سے ہیں،حضرت سلمان فارسی کے عقد مواخات والے بھائی ہیں۔
۵؎من انتکے معنی تھے تم کون ہوں آپ نے جواب دیا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں یہ بھی ایک طرح کی پہچان ہے۔
۶؎یعنی کوفہ میں حضرت عبدالله ابن مسعود ہیں جو گھر حضر سفر میں حضور کے ساتھی ہیں۔نعلین شریف اٹھانے کی ضرورت سفر میں ہوتی ہے،تکیہ اٹھانے کی ضرورت گھر میں اور جو حضور کا ساتھی ہر جگہ کا ہو وہ حضور انور کے علوم کا حامل بھی ضرور ہی ہوگا،تمہارے شہر میں جب ایسے عالم موجود ہیں تو تم کو کسی کی کیا ضرورت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ پہلے اپنے شہر کے علماء سے علم حاصل کرے پھر دوسرے علماء سے۔
۷؎یعنی حضور کے وضو اور استنجاء کا لوٹا آپ ہی اٹھاتے تھے گویا ہر جگہ ہر وقت آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔
۸؎یہ تفسیر کسی راوی کی ہے۔یعنی صاحب اسرار سے حضرت عمار ابن یاسر مراد تھے،حضرت عمار بڑے جلیل القدر صحابی ہیں، آپ نے راهِ خدا میں بڑی سے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں،مشرکین مکہ نے آپ کو زندہ آگ میں ڈالا حضور انور نے دعا کی کہ الٰہی عمار پر آگ ٹھنڈی کردے جیسے جناب خلیل پر آگ ٹھنڈی کی تھی،بعض روایات میں ہے کہ جب آپ آگ میں ڈالے گئے تو حضور ان پر گزرے اور آگ سے خطاب فرمایایا نار کونی بردا و سلاما علی عمار کما کنت علی ابراھیم۔(مرقات)معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم پر خدا نے آگ ٹھنڈی کی اور عمار پر باذن پروردگار حضور نے آگ ٹھنڈی کی،آپ تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے آپ کا نام طیب و مطیب رکھا تھا،آپ جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،اسی میں شہید ہوئے، ۳۷ھ ∞میں تیرانوے سال عمر ہوئی،آپ کے والد کا نام یاسر تھا والدہ کا نام سمیہ جو نہایت بے دردی سے کفار مکہ کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔
۹؎یعنی حضور انور کے خصوصی اسرار صرف حذیفہ کو معلوم ہیں جیسے تاقیامت منافقین کے نام پتے ان کے نسب وغیرہ۔ (مرقات)
۱۰؎حذیفہ کی کنیت عبدالله ہے،آپ کے والد کا نام جبل ہے،لقب یمان آپ نے ۳۵ میں مدائن میں وفات پائی۔حضرت عثمان کی شہادت کے چالیس دن بعد(مرقات)بار بار حضرت عمر پوچھا کرتے تھے اے حذیفہ تم مجھ کو تو منافقوں میں سے نہیں پاتے ہو میرے اندر کوئی نفاق تو نہیں فرمایا ہرگز نہیں مگر تمہارے دسترخوان پر چند کھانے ہوتے ہیں تحقیق کی تو ایک انڈے کی زردی سفیدی الگ الگ پکائی گئی تھی۔(اشعۃ اللمعات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6200