Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6209

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ إِنَّهٗ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سعد بن أبي وقاص قال: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لأحد يمشي على وجه الأرض إنه من أهل الجنة إلا لعبد الله بن سلام. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو کسی شخص کے متعلق جو روئے زمین پر چلتا ہو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنت والوں سے ہے سواء عبدالله ابن سلام کے متعلق ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شاید یہ حدیث اس وقت کی ہے جب کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے عشرہ مبشرہ وغیرہم دیگر صحابہ کرام کے جنتی ہونے کی خبر نہیں دی تھی۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ ابوبکر جنتی ہیں،عمر جنتی ہیں یا حسنین جوانان جنت کے سردار ہیں،فاطمہ جنتی بیبیوں کی سردار ہیں وغیرہ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت سعد کا مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں زمین پر چل رہے ہیں ان میں سے کسی کو حضور صلی الله علیہ و سلم نے صراحۃً نام لے کر جنتی نہیں فرمایا سواء حضرت عبدالله ابن سلام کے کیونکہ باقی حضرات مبشرین نہیں اس وقت وفات پاچکے تھے،عبدالله ابن سلام ہی رہ گئے تھے اگرچہ حضرت سعد ابن ابی وقاص بھی مبشر بالجنتہ ہیں مگر اپنا نام نہیں لیا انکسار کے طور پر،یا حضرت سعد نے اپنی بشارت براہ راست حضور صلی الله علیہ و سلم سے نہیں سنی تھی دوسرے ذریعوں سے سنی تھی اور حضرت عبدالله ابن سلام کی بشارت خود سنی تھی۔بہرحال یہ حدیث دوسری بشارات کے خلاف نہیں اس کے اور بھی جوابات دیئے گئے ہیں مثلًا یہ کہ نو مسلم یہودیوں میں سے کسی کو حضور صلی الله علیہ و سلم نے جنت کی بشارت نہ دی بجز ان کے۔و الله رسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6209