Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6218

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِوَشِعْبَهَا الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتّٰى تَلْقَوْنِي عَلَى الحَوْضِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصاروشعبها الأنصار شعار والناس دثار إنكم سترون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک صاحب ہوتے ۱؎اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں۲؎اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۳؎تم میرے بعد ترجیح دیکھوگے تو صبرکرنا حتی کہ تم مجھ سے حوض پر ملو۴؎(بخاری)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یہاں نسب ولادت کا ذکر نہیں حضور صلی الله علیہ و سلم اشرف ترین نسب سے ہیں بلکہ نسبت کا ذکر ہے یعنی اگر رب تعالٰی نے ہم کو ہجرت کی عزت نہ دینا ہوتی تو ہم مدینہ منورہ میں پیدا ہوتے اور اپنے کو مہاجر نہ کہتے بلکہ انصاری کہتے، چونکہ ہجرت نصرت سے افضل ہے اس لیے رب نے ہماری ولادت مکہ معظمہ میں کی اور ہمارا قیام مدینہ منورہ میں کیا اور ہم نبی مہاجر کہلائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مہاجرین صحابہ انصار صحابہ سے افضل ہیں،قرآن مجید میں بھی ارشاد ہوتاہے"مِنَ الْمُہَاجِرِیۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ"یعنی مہاجرین کا ذکر پہلے انصار کا بعد میں باقی تمام مسلمانوں سے انصار افضل ہیں۔
۲
؎جنگل اور اسکے رستہ کو وادی کہتے ہیں،پہاڑی راستوں کو شعب،یہاں رائے اور خیال مراد ہے یعنی اگر تمام جہان کی رائے ایک ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا تمام کی راؤں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا،یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا سارا جہان حضور کا متبع ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں ان سے ارشاد ہے"اِتَّبِعْ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡكَ
۳
؎شعائربنا ہےشعرسے بمعنی جسم کے بال جو لباس جسم سے بالکل متصل رہے اسے شعار کہتے ہیں کہ وہ بالوں سے ملا ہوتا ہے اور جو لباس اس شعار کے اوپر پہنا جاوے وہدثارکہلاتا ہے جیسے بنیان یا شلوکہ کا شعار ہے اور اس کے اوپر والے کپڑے کرتہ واسکٹ،اچکن دثار ہیں یعنی جیسے شعار جسم سے متصل رہتا ہے ایسے ہی انصار مجھ سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اخلاص ان کی خدمت دوسرے عام مؤمنوں سے بہت زیادہ ہے۔الناسسے مراد عام مؤمنین ہیں حضرات خلفاء راشدین یا فاطمہ زہرا و حسنین کریمین اس میں داخل نہیں۔
۴
؎یعنی میرے بعد بعض اسلامی بادشاہ تم پر اور لوگوں کو ترجیح دیں گے بلکہ تمہارے حق دوسروں کو دیں گے تو تم ان سے بغاوت نہ کرنا بلکہ صبرکرنا۔چنانچہ سلاطین اموی کے زمانہ میں عمومًا انصار کو نظر انداز کیا جاتا رہا حضور کی پیش گوئی درست ہوئی۔اس فرمان عالی میں انصار کے مؤمن ہونے،ایمان پر خاتمہ،حضور کے پاس حوض پر حاضر ہونے غرضکہ بے شمار فضائل کی خبر ہے۔اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ تم ان باتوں کو دنیا میں برداشت کرنا ہم حوض پر اور جنت میں ان سب کا بدلہ کردیں گے۔
۵
؎فتح کے دن ابو سفیان ایمان لائے حضرت عباس نے عرض کیا یارسول الله ابوسفیان کو فخر و بڑائی بڑی محبوب ہے اس لیے کچھ بڑائی ان کو عطا فرمائی جاوے تب حضور انور نے انکے گھر کو دارالامان بنادیا،اعلان فرمادیا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے لے اسے امان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6218