- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6218
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6218
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِوَشِعْبَهَا الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتّٰى تَلْقَوْنِي عَلَى الحَوْضِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصاروشعبها الأنصار شعار والناس دثار إنكم سترون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض» . رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک صاحب ہوتے ۱؎اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں۲؎اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۳؎تم میرے بعد ترجیح دیکھوگے تو صبرکرنا حتی کہ تم مجھ سے حوض پر ملو۴؎(بخاری)۵؎
شرح حدیث
۱∞؎یہاں نسب ولادت کا ذکر نہیں حضور صلی الله علیہ و سلم اشرف ترین نسب سے ہیں بلکہ نسبت کا ذکر ہے یعنی اگر رب تعالٰی نے ہم کو ہجرت کی عزت نہ دینا ہوتی تو ہم مدینہ منورہ میں پیدا ہوتے اور اپنے کو مہاجر نہ کہتے بلکہ انصاری کہتے، چونکہ ہجرت نصرت سے افضل ہے اس لیے رب نے ہماری ولادت مکہ معظمہ میں کی اور ہمارا قیام مدینہ منورہ میں کیا اور ہم نبی مہاجر کہلائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مہاجرین صحابہ انصار صحابہ سے افضل ہیں،قرآن مجید میں بھی ارشاد ہوتاہے"مِنَ الْمُہَاجِرِیۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ"یعنی مہاجرین کا ذکر پہلے انصار کا بعد میں باقی تمام مسلمانوں سے انصار افضل ہیں۔
۲؎جنگل اور اسکے رستہ کو وادی کہتے ہیں،پہاڑی راستوں کو شعب،یہاں رائے اور خیال مراد ہے یعنی اگر تمام جہان کی رائے ایک ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا تمام کی راؤں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا،یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا سارا جہان حضور کا متبع ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں ان سے ارشاد ہے"اِتَّبِعْ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡكَ"۔
۳؎شعائربنا ہےشعرسے بمعنی جسم کے بال جو لباس جسم سے بالکل متصل رہے اسے شعار کہتے ہیں کہ وہ بالوں سے ملا ہوتا ہے اور جو لباس اس شعار کے اوپر پہنا جاوے وہدثارکہلاتا ہے جیسے بنیان یا شلوکہ کا شعار ہے اور اس کے اوپر والے کپڑے کرتہ واسکٹ،اچکن دثار ہیں یعنی جیسے شعار جسم سے متصل رہتا ہے ایسے ہی انصار مجھ سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اخلاص ان کی خدمت دوسرے عام مؤمنوں سے بہت زیادہ ہے۔الناسسے مراد عام مؤمنین ہیں حضرات خلفاء راشدین یا فاطمہ زہرا و حسنین کریمین اس میں داخل نہیں۔
۴؎یعنی میرے بعد بعض اسلامی بادشاہ تم پر اور لوگوں کو ترجیح دیں گے بلکہ تمہارے حق دوسروں کو دیں گے تو تم ان سے بغاوت نہ کرنا بلکہ صبرکرنا۔چنانچہ سلاطین اموی کے زمانہ میں عمومًا انصار کو نظر انداز کیا جاتا رہا حضور کی پیش گوئی درست ہوئی۔اس فرمان عالی میں انصار کے مؤمن ہونے،ایمان پر خاتمہ،حضور کے پاس حوض پر حاضر ہونے غرضکہ بے شمار فضائل کی خبر ہے۔اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ تم ان باتوں کو دنیا میں برداشت کرنا ہم حوض پر اور جنت میں ان سب کا بدلہ کردیں گے۔
۵؎فتح کے دن ابو سفیان ایمان لائے حضرت عباس نے عرض کیا یارسول الله ابوسفیان کو فخر و بڑائی بڑی محبوب ہے اس لیے کچھ بڑائی ان کو عطا فرمائی جاوے تب حضور انور نے انکے گھر کو دارالامان بنادیا،اعلان فرمادیا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے لے اسے امان ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6218