Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6212

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا نَزَلَتْ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ عَلٰى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ: لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهٗ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ نزلت سورة الجمعة فلما نزلت وآخرين منهم لما يلحقوا بهم قالوا: من هؤلاء يا رسول الله؟ قال: وفينا سلمان الفارسي قال: فوضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على سلمان ثم قال: لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ہم بیٹھے تھے کہ سورۂ جمعہ اتری ۱∞؎تو جب یہ آیت نازل ہوئی ان میں سے دوسرے جو ابھی ان سے نہ ملے صحابہ نے عرض کیا یارسول الله وہ لوگ کون ہیں ۲؎فرمایا اور ہم میں سلمان فارسی تھے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان پر رکھا ۳؎پھرفرمایا کہ اگر ایمان ثریا تارے کے پاس ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ اسے پالیتے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ سورۂ جمعہ مدنیہ ہے اور نماز جمعہ بعد ہجرت فرض ہوئی ہے۔جن لوگوں نے کہا کہ نماز جمعہ قبل ہجرت فرض ہوچکی تھی ادا کی گئی بعد ہجرت وہ قو ی نہیں،جن حضرات نے حضور کی ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں جمعہ قائم کیا وہ جمعہ نہ تھا بلکہ نوافل تھے،یہ حضرات اس دن جمع ہوجاتے تھے نوافل پڑھ لیتے تھے۔لہذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں کہ حضرات صحابہ نے حضور انور کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہی مدینہ میں جمعہ شروع کردیا تھا۔
۲
؎اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم ان لوگوں کے بھی ہادی ہیں جو صحابہ کو نہ ملے بعد میں پیدا ہوں گے، اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اس فرمان عالی کا کس جماعت کی طرف اشارہ ہے۔
۳
؎حضرت سلمان فارسی اصفہان کے باشندے ہیں،رامہرمز کی اولاد ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،اصفہان ایران کا مشہور شہر ہے،آپ کے والدین آتش پرست تھے،آپ کو ایک عیسائی راہب کی صحبت ملی اس نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی صفات آپ کو سنائیں آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی ملاقات کے شوق میں نکل کھڑے ہوئے یہود نے پکڑکر آپ کو فروخت کردیا،دس سے زیادہ مالکوں کی ملکیت میں رہے آخر جویندہ پائیندہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس پہنچے اس نے آپ کو مکاتب کردیا حضور صلی الله علیہ و سلم نے کتابت کا روپیہ ادا کرکے آپ کو آزاد کردیا لہذا آپ حضور کے آزاد کردہ ہیں۔آپ کی عمر تین سو پچاس سال ہوئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں سے آپ کی ملاقات ہے یعنی آپ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی آپ کے فضائل بے شمار ہیں،مدائن میں ۵۳ھ؁ ∞ترپن میں وفات پائی۔(اکمال،مرقات)
۴
؎اس فرمان عالی میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان ابن ثابت رضی الله عنہ کی بڑی ہی منقبت ہے،آپ فارسی النسل ہیں، انہیں کی طرف حضور انور کا اشارہ ہے۔بعض احادیث میںرجل واحدہے یعنی سلمان کے ہم وطن لوگوں میں ایک شخص (ابوحنیفہ)یا چند لوگ ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی اس شان کے مالک ہوں گے کہ اگر ایمان ثریا تارے کے پاس ہوتا تو وہاں سے اتار لاتے،دیکھ لو آج امام اعظم کے کیسے فیوض جاری ہیں۔یہاں لمعات نے فرمایا کہ عرب میں صحابہ زیادہ ہیں اور عجم میں تابعین زیادہ ،عجمیوں نے دین کی بڑی خدمات انجام دیں اجتہاد،استنباط،تفقہ عجم میں بہت رہا۔ (لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6212