Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6210

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلٰى وَجْهِهٖ أَثَرُ الْخُشُوعِ فَقَالُوا: هٰذَارَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهٗ فَقُلْتُ: إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا: هٰذَارَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قَالَ: وَاللّٰهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ فَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ؟ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ مِنْ سِعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا وَسَطُهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهٗ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ:اِرْقَهْ.فَقُلْتُ:لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَرَقَيْتُ حَتّٰى كُنْتُ فِي أَعْلَاهُ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ: اِسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: تِلْكَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذٰلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ اَلْعُرْوَةُ الْوُثْقٰى فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلَامِ حَتّٰى تَمُوتَ وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن قيس بن عباد قال: كنت جالسا في مسجد المدينة فدخل رجل على وجهه أثر الخشوع فقالوا: هذارجل من أهل الجنة فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج وتبعته فقلت: إنك حين دخلت المسجد قالوا: هذارجل من أهل الجنة. قال: والله ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم فسأحدثك لم ذاك؟ رأيت رؤيا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه ورأيت كأني في روضة ذكر من سعتها وخضرتها وسطها عمود من حديد أسفله في الأرض وأعلاه في السماء في أعلاه عروة فقيل لي:ارقه.فقلت:لا أستطيع فأتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي فرقيت حتى كنت في أعلاه فأخذت بالعروة فقيل: استمسك فاستيقظت وإنها لفي يدي فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: تلك الروضة الإسلام وذلك العمود عمود الإسلام وتلك العروة العروة الوثقى فأنت على الإسلام حتى تموت وذاك الرجل عبد الله بن سلام . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن عباد سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب آئے جن کے چہرے پر انکسار کا اثر تھا لوگ بولے کہ یہ جنت والوں میں سے ہیں انہوں نے دو رکعت پڑھیں جن میں اختصار کرلیا ۲؎پھر نکل گئے اور میں ان کے پیچھے گیا میں نے کہا کہ آپ جب مسجد میں آئے تو لوگوں نے کہا یہ صاحب جنتیوں میں سے ہیں وہ بولے خدا کی قسم کسی کو مناسب نہیں کہ کسی کے متعلق وہ کہے جو جانتا نہ ہو۳؎میں تم کو بتاتا ہوں کہ یہ کیوں ہے میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا تھا میں نے وہ خواب حضور پر پیش کیا تھا۴؎میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اس کی فراخی اس کی سرسبزی بیان کی اس کے بیچ میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور بالائی حصہ آسمان میں اس کے بالائی حصہ میں ایک دستہ ہے ۵؎مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ میں طاقت نہیں رکھتا تو میرے پاس ایک خادم آیا ۶؎اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے تو میں چڑھ گیا حتی کہ اس کے اوپر پہنچ گیا پھر میں نے دستہ پکڑ لیا ۷؎مجھ سے کہا گیا کہ مضبوطی سے پکڑ لو پھر میں جاگ پڑا وہ میرے ہاتھ میں ہی تھی میں نے یہ خواب نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کی ۸؎تو فرمایا کہ یہ باغ اسلام ہے اور یہ ستون اسلام کا ستون ہے ۹؎اور یہ دستہ عروہ وثقی ہے ۱۰؎تم مرتے دم تک اسلام پر رہو گے ۱۱∞؎یہ صاحب حضرت عبدالله ابن سلام تھے۔ (مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،زاہد متقی بصری ہیں،انہیں حجاج ابن یوسف نے باندھ کر شہید کیا،بہت صحابہ سے ملاقات ہے۔
۲
؎یعنی میں مسجد نبوی صلی الله علیہ و سلم میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب جن کے چہرے پر خشوع خضوع خوفِ الٰہی کے آثار تھے آئے۔ خیال رہے کہ عجزونیاز دلی ہوتا ہے مگر اس کا اثر چہرے پر نمودار ہوتا ہے،رب فرماتاہے:"سِیۡمَاهُمْ فِیۡ وُجُوۡهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوۡدِ"وہاں سجدہ کے اثر سے مراد پیشانی کا داغ نہیں بلکہ چہرے کا نور ہے جو کثرت سجود خصوصًا تہجد کی وجہ سے نمودار ہوتا ہے؎بندہ مؤمن کی پیشانی کا نور کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور
اسی لیے آیت میں
فی وجوھہمفرمایافی جباھھمنہ کہا داغ صرف پیشانی میں ہوا ہے مگر نور پورے چہرے میں۔
۳
؎آپ کا یہ کلام انتہائی عجز و نیاز پر مبنی ہے ورنہ صحابہ کرام ان کا جتنی ہونا یقین سے جانتے تھے کہ جس زبان پاک سے انہوں نے قرآن پاک سنا اسی سے یہ سنا تھا کہ عبدالله ابن سلام جنتی ہیں جیسے قرآن یقینی ہے ایسے ہی حضور کے سارے فرمان یقینی ہیں،اس زبان سے جھوٹ کبھی نہیں نکلتا،سونے کی کان سے لوہا نہیں نکل سکتا حضور کی زبان سے جھوٹ نہیں نکل سکتا صلی الله علیہ وسلم۔یہ فرق ہے ہمارے اور صحابہ کرام کے ایمان و اعمال میں کہ ان حضرات کے ایمان و اعمال رجسٹری شدہ ہیں۔ہمارے ایمان و اعمال کی خبر نہیں قبول ہیں یا نہیں،ہم مؤمن مریں گے یا کافر،الله تعالٰی ان کے صدقے سے ہمیں ایمان پر خاتمہ نصیب کرے۔آمین! یا اس کلام کا منشا یہ ہے کہ اے قیس یہ لوگ جو مجھے جنتی کہہ رہے ہیں صرف اپنی رائے سے نہیں کہتے بلکہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے فرمان سے کہتے ہیں،یہ سچے ہیں پھر آپ نے اگلا واقعہ بیان فرمایا،یہ مطلب حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں بیان کیا۔خیال رہے کہ کسی کے متعلق لوگوں کے منہ سے نکلنا کہ یہ ولی ہے یہ جنتی ہے اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔ حضور فرماتے ہیںانتم شھداء الله فی الارض،رب فرماتاہے:"لِتَکُوۡنُوۡا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ"حضور غوث پاک خواجہ اجمیری داتا ہجویری یقینی جنتی ہیں کیسے معلوم ہوا مؤمنوں کی گواہی سے۔
۴
؎یہ بیان ہے اس چیز کا جس کی وجہ سے لوگ حضرت عبدالله کو جنتی کہہ رہے تھے۔خیال رہے کہ جس خواب کی تصدیق و تعبیر پیغمبر کی طرف ہوجاوے وہ خواب وحی الٰہی کی طرح یقینی ہوتی ہے خواہ کسی کی خواب ہو۔چنانچہ اسلامی اذان حضرات صحابہ کرام کی خواب سے جاری کی گئی کیونکہ حضور انور نے اس کی تائید فرمادی،دو کافر قیدیوں کی خواب کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے دے دی تو وہ ہوکر رہی"قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡهِ تَسْتَفْتِیَانِ
۵
؎عروہ کے بہت معنی ہیں حلقہ،گرہ دستہ غرضکہ پکڑنے کی ہر چیز کو عروہ کہا جاتا ہے،رب فرماتاہے:"فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی
۶
؎منصفمیم کے کسرہ سے ص کے فتح سے،بنا ہےنصف نصفۃسے بمعنیخدم خدمۃ،اس کے معنی ہیں خدمت گار ملازم۔
۷
؎یعنی اس نے جوں ہی میرا پیچھے سے کرتا اٹھایا میں خود ہی اس ستون کے کنارے پر پہنچ گیا اور وہ کڑا یا دستہ میں نے مضبوطی سے تھام لیا۔
۸
؎حضور صلی الله علیہ و سلم صحابہ سے ان کی خوابیں سنا کرتے تھے تعبیر بھی خود ہی دیاکرتے تھے بلکہ کبھی اپنی خواب شریف بھی بیان فرماتے تھے مع تعبیر کے اس لیے حضرات صحابہ اپنی خوابیں حضور پر پیش فرماتے تھے یہ واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
۹
؎یعنی یہ ستون جو تم نے باغ کے درمیان دیکھا یہ اسلام کا ستون ہے جس پر اسلام قائم ہے اور جو مسلمان بننے کا مدار ہے۔
۱۰
؎اسےعروہ وثقیاس لیے فرمایا کہ اس کے ٹوٹ جانے کا خطرہ نہیں۔وثقیمونث ہےاوثقکا جس کا مصدروثوقہےبمعنی پختگی و مضبوطی۔
۱۱∞؎
یعنی وہ دستہ وگرہ بھی مضبوط ہے اور تمہارا پکڑنا بھی مضبوط،ان شاءاللهایمان پر جیو گے ایمان پر مرو گے،حضور کے اس فرمان سے حضرت عبدالله کے ایمان کی رجسٹری ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6210