Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6199

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اِسْتَقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:مِنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلٰى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذَ بْنِ جَبَلٍ ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"استقرؤوا القرآن من أربعة:من عبد الله بن مسعود وسالم مولى أبي حذيفة وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل ".(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ قرآن مجید چار شخصوں سے سیکھو ۱∞؎عبدالله ابن مسعود ۲؎ابو حذیفہ کے مولٰی سالم۳؎ابی ابن کعب اور معاذ ابن جبل ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قرآن مجید کی تلاوت اس کے مضامین اس کے احکام اس کے اسرار ان صحابی سے خصوصیت کے ساتھ سیکھو۔خیال رہے کہ یہ چار صحابہ قرآن سکھانے والے ہیں اور حضرت خلفاء راشدین قرآن چلانے والے،اسے جاری کرنے والے ہیں لہذا اس فرمان کا یہ مقصد نہیں کہ ان حضرات سے علوم قرآنیہ حاصل نہیں ہوئے ہر ایک کی ڈیوٹی علیحدہ ہے۔بعض روایات میں ہے کہ یہ چار حضرات قرآن مجید کے حافظ تھے،انہوں نے براہ راست قرآن حضور انور سے سیکھا اور یاد کیا۔
۲
؎آپ قرآن مجید کے بڑے عالم فقیہ ہیں حتی کہ امام اعظم اکثر احکام میں آپ کی اتباع کرتے ہیں رضی اللہ عنہما ۔
۳
؎جناب سالم اصطخر یعنی ملک فارس کے تھے،آپ مہاجرین اولین کی امامت کرتے تھے یعنی حضور کی تشریف آوری سے پہلے حالانکہ ان میں حضرت عمر موجود تھے اور ابو حذیفہ کا نام ہشام ہے،آپ عتبہ ابن ربیعہ ابن عبدالشمس ہیں،حضور انور کے دار رقم میں تشریف لانے سے پہلے ایمان لائے۔
۴
؎ابی ابن کعب سید القراء ہیں کاتب وحی ہیں،حضرت عمر آپ کو سید المسلمین کہتے تھے،معاذ ابن جبل کے فضائل تو بے حدوبیشمار ہیں،حضور انور نے انہیں یمن کا حاکم بناکر بھیجا تھا۔(اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6199