Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6229

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهٗ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ».وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهٗإِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» .فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ فِي "بَاب" بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من يصعد الثنية ثنية المرار فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل».وكان أول من صعدها خيلنا خيل بني الخزرج ثم تتام الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كلكم مغفور لهإلا صاحب الجمل الأحمر» .فأتيناه فقلنا: تعال يستغفر لك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لأن أجد ضالتي أحب إلي من أن يستغفر لي صاحبكم. رواه مسلم وذكر حديث أنس قال لأبي بن كعب: إن الله أمرني أن أقرأ عليك في "باب" بعد فضائل القرآن

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اس گھاٹی پر کون چڑھے گا یعنی مرار گھاٹی پر ۱∞؎اس سے وہ گناہ معاف ہوں گے جو بنی اسرائیل سے معاف ہوئے تھے۲؎تو اس پر پہلے جو چڑھا وہ ہمارے سوار تھے بنی خزرج پھر لوگ تانتا باندھ کر چڑھے۳؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم سب کی بخشش ہوگئی سواء اس سرخ اونٹ والے کی۴؎تو ہم اس کے پاس پہنچے ہم نے اس سے کہا آتیرے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم دعاء مغفرت فرما دیں۵؎وہ بولا کہ میرا اپنی گمی چیز پالینا تمہارے صاحب کی دعاء مغفرت سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎(مسلم)حضرت انس کی حدیث کہ حضور نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہ الله نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۷؎فضائل قرآن کے بعد باب میں ذکر کردی گئی ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎مرارمیم کے پیش یا کسرہ یا فتحہ سے ایک پہاڑی ہے بہت سخت اور خاردار۔راهِ حدیبیہ جاتے ہوئے حضور انور نے صحابہ کو اس پہاڑی پر چڑھنے کی رغبت دی تاکہ آس پاس کا حال دیکھ لیں کہیں کفار مکہ گھات میں نہ بیٹھے ہوں۔(اشعہ) اس چڑھنے پر بڑی بخشش کا وعدہ فرمایا۔
۲
؎یہاں معاف ہونے سے مراد معاف ہونے کا وعدہ ہے اور اشارہ ہے اس آیت کریمہ کی طرف"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ"بنی اسرائیل نے حکم الٰہی نہ مانا کہ بجائےحطۃکےحنطۃکہا ان پر عذاب آگیا۔اس کا واقعہ ہماری تفسیرنعیمی پارہ اول اسی آیت کی تفسیر میں دیکھو۔
۳
؎لہذا یہ سب لوگ جنتی ہوئے مگر بنی خزرج اول درجے کے جنتی اسی لیے ان کا ذکر علیحدہ فرمایا۔
۴
؎یہ سرخ اونٹ والا عبدالله ابن ابی منافق تھا یہ راہ ہی میں رہ گیا،صلح حدیبیہ میں شریک نہیں ہوا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور ہر ایک کے انجام سے خبردار ہیں جانتے ہیں کہ کون قابلِ بخشش ہے کون نہیں۔
۵
؎حضرات صحابہ کرام کا اس کے پاس جانا اسے حاضری بارگاہ عالی کی رغبت دینا اس فرمان عالی کے اظہار اور اس کی منافقت دکھانے کے لیے تھا کہ واقعی وہ بخشش کے قابل نہیں،حضور انور نے بالکل درست فرمایا ہے وہ حضرات حضور کی خبر میں شک یا تردد کی وجہ سے نہیں گئے تھے اب تک یہ چھپا ہوا تھا آج اس کی پردہ دری ان حضرات کے اس واقعہ سے ہوئی۔
۶
؎اس کا وہی سرخ اونٹ یا کوئی اور چیز گم ہوگئی تھی یہ اس کی تلاش میں تھا کہ ان حضرات نے اسے بارگاهِ رسالت میں حاضری کے لیے مشورہ دیا۔اسکے جواب کا مقصد یہ ہے کہ مجھے وہ گم شدہ اونٹ حضور انور کی دعاء مغفرت سے زیادہ پیارا ہے مجھے وہ تلاش کرنے دو یہ بھی کفر ہے اور حضور انور کو اس طرحصاحبکمکہنا بھی کفر۔اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ رسول یا نبی نہیں صرف ساتھی ہیں وہ بھی تمہارے ہیں میرے ساتھی بھی نہیں،رب تعالٰی نے حضور انور کوہمارا صاحب فرمایا"مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی"وہ حضور انور کی نعمت اور صحابہ کرام کی منقبت ہے یعنی وہ ذات تمہارے دل و دماغ دین ایمان جان کی ساتھی ہے کہ سب ساتھی تمہارا ساتھ چھوڑ دیں مگر وہ محبوب تم کو کہیں نہیں چھوڑتے،آیۃ کریمہ"وَ اِذَا قِیۡلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ رَسُوۡلُ اللهِ لَوَّوْا رُءُوۡسَهُمْ وَ رَاَیۡتَهُمْ یَصُدُّوۡنَ وَ هُمۡ مُّسْتَکْبِرُوۡنَ"اسی طرف اشارہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور سے بے نیاز ہونا اپنے کو ان کا محتاج نہ جاننا یہ سمجھنا کہ میں خود ہی خدا تعالٰی سے سب کچھ لے لوں گا مجھے حضور کی کیا ضرورت ہے صریحی کفر ہے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا شعر
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا ہے خلیل الله کو حاجت رسول الله کی
۷
؎اس کی شرح اور اس کے فوائد وہاں ہی بیان ہوچکے کہ اس فرمان عالی میں چند اشارہ ہیں: ایک یہ کہ حضرت ابی بن کعب کی بارگاہ الٰہی میں بڑی ہی عظمت ہے کہ رب تعالٰی نے ان کا ذکر اپنے حبیب صلی الله علیہ وسلم سے کیا۔دوسرے یہ کہ استاذ معلم اپنے شاگرد کو خود پڑھ کر سنائے یہ بھی سنت ہے۔تیسرے یہ کہ حضرت ابی بن کعب قاریوں کے امام ہیں۔(مرقات)
۸
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں مذکور تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے باب فضائل القرآن کے بعد ذکر دی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6229