Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6235

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهٗ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن علي قال: استأذن عمار على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ائذنوا له مرحبا بالطيب المطيب . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ جناب عمار نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی تو فرمایا انہیں اجازت دے دو خوب آئے پاکیزہ اور پاکباز ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت عمار بذات خود بھی پاکیزہ ہیں اور ان کے اخلاق،عادات،افعال،احوال بھی پاکیزہ۔طیب سے ذاتی پاکیزگی مراد ہے اور مطیب سے صفاتی اخلاقی پاکیزگی مراد۔خیال رہے کہ اکثر ظاہری پاکیزگی کو طہارت کہتے ہیں اور پاکیزگی کو طیب۔ طہارت کا مقابل ہے نجاست اور طیب کا مقابل ہے خباثت۔کپڑا ناپاک تھا دھو دیا طاہر ہوگیا،بکری ذبح کردی گئی تو طیب ہوگئی۔مگر یہ قاعدہ اکثریہ ہے کبھی ذاتی اور اندرونی پاکیزگی کو بھی طہارت کہہ دیتے ہیں،رب فرماتاہے:"وَ یُطَهِرَکُمْ تَطْهِیۡرًا"۔ ∞تزکیہ،تطہیر، تطییب ان میں نفیس فرق ہے۔طیبصفت مشتبہ اورمطیبباب تفعیل کا اسم مفعول فرما کر بہت ہی فضائل بیان فرمادیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6235