Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6249

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الأَنْصَارُ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَاقْبَلُوا عَنْ مُحْسِنِهِمْ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ألا إن عيبتي التي آوي إليها أهل بيتي، وإن كرشي الأنصار، فاعفوا عن مسيئهم، واقبلوا عن محسنهم » . رواه الترمذي وقال هذاحديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ آگاہ رہو میرے وہ خاص لوگ جن کی طرف میں رجوع کرتا ہوں میرے گھر والے ہیں ۱∞؎اور میرے اندرونی مشیر کار انصار ہیں تو ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیک کاروں سے نیکی قبول کرو۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اہلِ بیت میں ازواج پاک اولاد مطہرات سب ہی داخل ہیں۔
۲
؎اس فرمان عالی کی شرح پہلے گزر چکی کہ اس میں خطاب یا ساری امت سے ہے یا اسلام کے خلفاء اور بادشاہوں سے کہ اگر کوئی انصاری کسی کے ذاتی معاملہ میں کچھ زیادتی کمی کر دے تو اسے یہ سمجھ کر معاف کرو یہ ہمارے رسول کے میزبان بے مثال ہیں ان کا ہم سب پر احسان عظیم ہے۔اس پوری حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے آپ نے گھر والوں اور جماعت انصار سے بہت ہی محبت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6249