Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6198

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى اِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرٰى مِنْ دُخُولِهٖ وَدُخُولِ أُمِّهٖ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى الأشعري قال: قدمت أنا وأخي من اليمن فمكثنا حينا ما نرى الا أن عبد الله بن مسعود رجل من أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم لما نرى من دخوله ودخول أمه على النبي صلى الله عليه وسلم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی یمن سے آئے ہم بہت عرصہ ٹھہرے ۱∞؎ہم یہ ہی سمجھتے رہے کہ حضرت عبدالله ابن مسعود نبی صلی الله علیہ و سلم کے اہلِ بیت میں ہیں ۲؎کیونکہ ہم ان کا اور ان کی والدہ کا بہت ہی آنا جانا نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس دیکھتے تھے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم دونوں بھائی یمن کے رہنے والے تھے وہاں سے مدینہ منورہ آئے،مسلمان ہوئے عرصہ تک مدینہ میں رہے اور یہ سمجھتے رہے۔
۲
؎حضرت عبدالله ابن مسعود مشہور صحابی ہیں،قدیم الاسلام ہیں،حضرت عمر سے پہلے ایمان لائے جب حضور دار ارقم میں جلوہ افروز نہیں ہوئے تھے،آپ چھٹے مسلمان ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم کی مسواک،وضو کا لوٹا،نعلین شریف آپ ہی کے ہاتھ رہتی تھی خصوصًا سفر میں،آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی جنگ بدر اور تمام غزوات میں شرکت کی، حضور انور نے آپ کے جنتی ہونے کی بشارت دی،آپ گندمی رنگ درمیانہ قد عہد فاروقی میں کوفہ کے حاکم اور خزانچی بھی رہے، ۳۲ھ؁ ∞میں وفات پائی،بقیع شریف میں دفن ہوئے،ساٹھ سال سے زیادہ عمر ہوئی،خلفاء راشدین کے بعد سب سے بڑے فقیہ صحابی ہیں،امام اعظم ابوحنیفہ انہی کے متبع ہیں۔
۳
؎یعنی آپ اور آپ کی والدہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے دولت خانہ میں اس قدر آتے جاتے تھے بغیر روک ٹوک اور بغیر اجازت طلب کیے کہ ہم سمجھے کہ آپ بھی اہل بیت رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے ہیں۔حضور انور نے آپ سے فرما دیا تھا کہ تم کو ہمارے گھر میں آنے کے لیے اجازت لینے کی ضرورت نہیں بے اجازت بے روک ٹوک آجایا کرو،ہاں اگر ہم تم کو اشارۃً کسی وقت کھنکار کر یا کسی اور طریقہ سے منع کردیا کریں تو رک جایا کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6198