Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6257

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهٗ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى العَشِيرَةِ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ

وعن أبي عبيدة أنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «خالد سيف من سيوف الله عز وجل ونعم فتى العشيرة» . رواهما أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو عبیدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خالد الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ۱∞؎اور یہ اپنے کنبے کے بہترین جوان ہیں ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الله کی تلواریں دو قسم کی ہیں:مشہور تلوار اور غیر مشہور حضرت خالد ان میں سے ایک ہیں جو مشرکین و کفار پر الله نے سونتی ہے۔
۲
؎یعنی حضرت خالد قبیلہ بنی مخزوم میں بہترین بندے اور صالح مرد ہیں۔دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبدالله ابن عباس سے مرفوعًا روایت کی کہ خالد الله کی تلوار ہیں،حمزہ الله رسول کے شیر ہیں،ابو عبیدہ ابن جراح الله رسول کے امین ہیں، حذیفہ ابن یمان صفی الرحمن ہیں(یعنی الله کے چنے ہوئے بندے)عبدالرحمن ابن عوف الله کے تاجروں میں سے ہیں۔ (مرقات)خیال رہے کہ حضور انور جس کو بھی خطاب دیتے ہیں بالکل درست اور برمحل دیتے ہیں،حضور کے خطابات دنیاوی حکومتوں کے نہیں کہ نرے جاہل کو شمس العلماء بڑے بزدل کو خان بہادر کے خطاب دیئے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6257