Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6226

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ . قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: وَكَذٰلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَة. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن رفاعة بن رافع قال: جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما تعدون أهل بدر فيكم . قال: من أفضل المسلمين أو كلمة نحوها قال: وكذلك من شهد بدرا من الملائكة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۲؎عرض کیا کہ آپ لوگ اپنے میں بدر والوں کو کیسا شمار کرتے ہیں ۳؎فرمایا مسلمانوں میں بہترین یا اس طرح کی اور بات کہی۴؎وہ بولے کہ یوں ہی فرشتوں میں وہ فرشتے جو بدر میں حاضر ہوئے ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو معاذ تھی،انصاری ہیں،بدرواحد اور سارے غزوات میں شریک ہوئے،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،امیر معاویہ کی سلطنت کی ابتداء میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎غالبًا حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ واقعہ حضرات صحابہ سے بیان کیا ہوگا انہوں نے حضور سے سن کر روایت کیا اور ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے حضرت جبریل کو حاضر ہوتے ہوئے یہ عرض کرتے سنا ہو اور اگرچہ حضرت جبریل شکل انسانی میں تھے مگر اس گفتگو سے یہ حضرات پہچان گئے ہوں کہ آپ جبریل ہیں۔
۳
؎یعنی یارسول الله حضور اور صحابہ کرام اہلِ بدر کو اپنے مؤمنوں میں سے کس درجہ کا سمجھتے ہیں۔تعدونمیں خطاب حضور انور اور صحابہ کرام سے ہے اورمافرمانا نہایت ہی موزوں ہے،یہاںمنکی جگہ نہیں ہےمابمعنی کیف ہے یامادرجہ کے لیے ہے۔
۴
؎اس جواب شریف سے معلوم ہوا غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرات ان صحابہ سے افضل ہیں جو شریک نہ ہوئے۔خیال رہے کہ حضرت عثمان غنی بدر میں حکمًا شریک تھے کہ ان کے لیے ان کا گھر میدان بدر بنا دیا تھا کیونکہ وہ حضور انور کے حکم سے گھر میں رہے جناب رقیہ بنت رسول الله کی تیمار داری کے لیے حضور جسے جو چاہیں بنادیں،اگر چاہیں تو گجرات کو مدینہ بنا دیں،ہر مؤمن کی قبران شاءاللهمدینہ ہوگی۔شعر
بنادو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ
۵
؎پانچ ہزار فرشتے بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے آئے تھے یہ دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حضرت میکائیل و اسرافیل علیہم السلام بھی ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6226