Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6222

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتّٰى جَلَسَ عَلَى المِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتّٰى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه حتى جلس على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «أما بعد فإن الناس يكثرون ويقل الأنصار حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام فمن ولي منكم شيئا يضر فيه قوما وينفع فيه آخرين، فليقبل من محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم» رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم اس بیماری میں باہر تشریف لائے جس میں حضور کی وفات ہوئی ۱∞؎حتی کہ منبر پر جلوہ گر ہوئے تو الله کی حمدوثنا کی۲؎پھر فرمایا کہ بعد حمد کے جان لو کہ لوگ بڑھیں گے اور انصار گھٹیں گے۳؎حتی کہ ایسے ہوجائیں گے جیسے کھانے میں نمک ۴؎تو میں تم میں سے جوبھی کسی ایسے عہدہ کا مالک ہو جس میں کسی قوم کو نفع اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکے ۵؎تو وہ ان کے نیکوں سے قبول کرے اور برائی کرنے والوں سے درگزر کرے۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ پہلے ہی واقعہ کا ذکر ہے جو ابھی مذکور ہوا اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ اس مذکورہ واقعہ سے پہلے کا ہو کیونکہ اس پہلے واقعہ کے بعد تو حضورانور نہ باہر تشریف لائے نہ خطبہ فرمایا۔
۲
؎حمدوثناء ہم معنی ہوتے ہیں کبھی ان میں یوں فرق کرتے ہیں کہ حمد وہ جو رب تعالٰی کی طرف سے الہام ہو،ثنا وہ جو بندہ اپنی کوشش سے کرے،یا حمد نعمتوں پر رب کی تعریف کو کہتے ہیں اور ثناء اس ذات کریم کی صفات عالیہ کے ذکر کو کہتے ہیں۔و الله ورسولہ اعلم!۳؎یعنی مہاجرین کی اولاد دنیا میں بکثرت ہوگی مگر انصار کی اولاد بہت کم ہوگی یا مدینہ منورہ میں مہاجرین کی اولاد بہت رہے گی انصار کی اولاد بہت کم ہوگی،اب سارے مدینہ منورہ میں صرف ایک گھرانا انصار کا ہے یعنی حمزہ ابوالجود کا گھرانہ۔دیکھ لو آج سید، علوی،عباسی بہت ہیں انصاری بہت تھوڑے بلکہ قریبًا نہیں ہیں بعض لوگ بناوٹی انصاری ہیں،بعض شارحین نے کہا کہ مہاجرین تا قیامت ہوتے رہیں گے کہ ہجرت قائم ہے مگر انصار خصوصًا حضور انور کے مددگار انصار جو ہونا تھے وہ ہولیے اشعہ میں اسی کو اختیار کیا۔
۴
؎یعنی اگرچہ انصار کم ہوجائیں گے مگر اسلام کی لذت و عمدگی انہی سے قائم ہوگی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے تھوڑا مگر سارے کھانے میں لذت اس ہی کی ہوتی ہے،تا قیامت اسلام کی بہاریں انہیں انصار سے ہیں جنہوں نے حضور انور کی مہمانی کا حق ادا کیا،نمک مصلح طعام ہے اور انصارمصلح اسلام۔(اشعہ)
۵
؎یعنی میرے بعد تم مہاجرین میں جوکسی اعلٰی یا معمولی عہدہ پر فائز ہو وہ میری یہ وصیت یاد رکھے۔
۶
؎اسی کی شرح ابھی گزر چکی کہ اس سے مراد قانون شکنی بغاوت ارتداد وغیرہ نہیں بلکہ شخصی ذاتی معاملات میں قصور و کوتاہی مراد ہے یعنی اگر کوئی انصاری کسی سے کوئی اچھا سلوک کرے تو وہ دوگنا تگنا بدلہ بطور شکریہ ادا کرے اور اگر کوئی انصاری کسی سے کوئی ذاتی بدسلوکی کرے تو وہ میری خاطر اس سے درگزر کرے کہ انصار میرے محسن میرے میزبان ہیں رضی الله عنہم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6222