Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6208

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ اُدْعُ اللّٰهَ لَهٗ قَالَ: اَللّٰهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهٗ وَوَلَدَهٗ وَبَارِكْ لَہٗ فِيمَا أَعْطَيْتَهٗ قَالَ أَنَسٌ: فَوَ اللهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلٰى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أم سليم أنها قالت: يا رسول الله أنس خادمك ادع الله له قال: اللهم أكثر ماله وولده وبارك لہ فيما أعطيته قال أنس: فو الله إن مالي لكثير وإن ولدي وولد ولدي ليتعادون على نحو المائة اليوم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلیم سے ۱∞؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله انس آپ کا خدمت گار ہے اس کے لیے الله سے دعا فرمایئے حضور نے فرمایا الٰہی ان کا مال ان کی اولاد زیادہ کر اور انہیں تو جو عطا فرماوے اس میں برکت دے ۲؎حضرت انس فرماتے ہیں الله کی قسم کہ میرا مال بہت زیادہ ہے ۳؎اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد آج تقریبًا سو سے زیادہ ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ام سلیم حضرت انس کی والدہ ہیں،اپنے فرزند حضرت انس کو لڑکپن میں حضور کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا، حضرت انس حضور ہی کے پاس رہتے تھے۔
۲
؎یہ آخری کلمہ بہت ہی جامع ہے یعنی مال،اولاد،ایمان،عزت و آبرو جو بھی تو انہیں عطا فرمائے اس میں برکت دے، برکت اور کثرت کا فرق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔
۳
؎چنانچہ حضرت انس مدینہ منورہ کے بڑے مالداروں میں سے تھے الله تعالٰی نے انہیں مالی کثرت برکت دونوں عطا فرمائی تھیں۔(مرقات)
۴
؎امام ابن حجر نے شرح شمائل شریف میں فرمایا کہ حضرت انس کی مذکر اولاد ایک سو پچیس ہوئی جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھی یعنی بیٹے پوتے نواسے وغیرہم اور آپ کے باغ میں سال میں دوبار پھل آتا تھا۔(مرقات)خیال رہے کہ حضرت انس ابن مالک ابن نضر خزرجی کی کنیت ابوحمزہ ہے،دس سال کی عمر میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے، خلافت فاروقی میں بصرہ میں تبلیغ دین کے لیے رہے، ۹۱ھ؁ ∞ اکیانوے میں وفات پائی،ایک سو تین سال کی عمر ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال کی کثرت و برکت الله کی نعمت ہے جب کہ اس کے فتنہ سے محفوط رہے اس زمانہ میں علماء کو رب فاسق امیروں سے غنی فرما دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6208