Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6258

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهٗ يُحِبُّهُمْ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ سَمِّهِمْ لَنَا قَالَ: «عَلِيٌّ مِنْهُمْ» يَقُولُ ذٰلِكَ ثَلَاثًا «وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«إن الله تبارك وتعالى أمرني بحب أربعة وأخبرني أنه يحبهم» . قيل يا رسول الله سمهم لنا قال: «علي منهم» يقول ذلك ثلاثا «وأبو ذر والمقداد وسلمان أمرني بحبهم وأخبرني أنه يحبهم. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی نےمجھے چار شخصوں کی محبت کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول الله ہم کو ان کے نام بتائیں ۲؎فرمایا علی ان میں سے ہیں یہ تین بار فرماتے رہے۳؎اور ابو ذر اور مقداد اور سلمان ہیں کہ مجھے ان سے محبت کا حکم دیا اور خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے۴؎(ترمذی)فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎یوں تو رب تعالٰی ہر مؤمن و متقی خصوصًا ہر صحابی سے محبت کرتا ہے"یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ"مگر ان چارحضرات سے خصوصی محبت فرماتا ہے محبت کی بہت نوعیتیں ہوتی ہیں۔
۲
؎تاکہ ہم بھی ان سے محبت کریں الله رسول کے پیارے ہمارے بھی پیارے ہونے چاہئیں۔
۳
؎بار بار فرمانے سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی الله عنہ ان چاروں میں فرد اعلٰی ہیں۔
۴
؎یہ اس اجمال کی تفصیل ہے جو اجمال ابھی گزرا یہ حضرات الله کے محبوب کیوں نہ ہوں۔حضرت علی کے فضائل و مناقب ہماری شمار سے سواء ہیں،ابوذر بڑے عابد تھے،بڑے تارک الدنیا صحابی ہیں،حضرت مقداد چھٹے مؤمن ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ حضرت عثمان غنی کی خلافت میں فوت ہوئے،انہیں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور حضرت سلمان تو اہل بیت میں شمار ہیں،تین سو سال حضور کی تلاش میں پریشان سرگرداں رہے آخر کار پہنچ گئے،چٹائیاں بنا کر روزی کماتے اسی پر گزارہ کرتے تھے اپنی غنیمت اور وظیفے کو فقراء پرتقسیم کر دیتے تھے۔(اشعہ)یہ حضرات شکل انسانی میں فرشتے بلکہ فرشتوں سے افضل تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6258