Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6211

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن أَنَسٍ قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيْبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلٰى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتٌ فِي بَيْتِهٖ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ: مَا شَأْنُ ثَابِتٍ أَيَشْتَكِي؟ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهٗ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذٰلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أنس قال: كان ثابت بن قيس بن شماس خطيب الأنصار فلما نزلت هذه الآية: يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي إلى آخر الآية جلس ثابت في بيته واحتبس عن النبي صلى الله عليه وسلم فسأل النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن معاذ فقال: ما شأن ثابت أيشتكي؟ فأتاه سعد فذكر له قول رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ثابت: أنزلت هذه الآية ولقد علمتم أني من أرفعكم صوتا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنا من أهل النار فذكر ذلك سعد للنبي صلى الله عليه وسلم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل هو من أهل الجنة . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ثابت ابن قیس ابن شماس انصار کے خطیب تھے ۱∞؎جب یہ آیت اتری کہ اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو آخر آیت تک ۲؎تو جناب ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہ سے غیر حاضر ہوگئے ۳؎نبی صلی الله علیہ و سلم نے جناب سعد ابن معاذ سے پوچھا۴؎فرمایا ثابت کو کیا ہوا کیا وہ بیمار ہیں تب سعد ان کے پاس گئے ان سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا فرمان بیان فرمایا تو ثابت بولے کہ یہ آیت نازل ہوچکی ہے اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب میں حضور کی بارگاہ میں اونچی آواز والا ہوں تو میں تو دوزخیوں میں سے ہوں ۵؎یہ ماجرا حضرت سعد نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا بلکہ وہ تو جنت والوں سے ہیں ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری خزرجی ہیں، ۱۲ھ؁ ∞بارہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔خطیببمعنی فصیح تاریخ دان عالم انساب ہے۔
۲
؎تمام سلاطین و حکام اپنے آداب مجلس خود بناتے ہیں مگر حضور صلی الله علیہ و سلم وہ سلطان کونین ہیں جن کے آداب دربار خود رب تعالٰی نے بنائے اور انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوقات پر بھی جاری فرمائے۔یہ آیت کریمہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں حضور کے آستانہ عالیہ میں عرض و معروض کرنے کا طریقہ سکھایا جارہا ہے۔خیال رہے کہ یہاں گفتگو کا ذکر ہے کہ دوران گفتگو میں کسی کی آواز حضور کی آواز سے اونچی نہ ہو اس سے اذان وغیرہ دوسرے موقعہ مستثنٰی ہیں وہ تو بلند آواز سے ہی ہوں گے۔
۳
؎یعنی شرم کی وجہ سے بارگاہ عالی میں حاضر نہ ہوئے کہ میں تو بارہا وہاں اونچی آواز سے بول چکا ہوں میرے اعمال ضبط ہوچکے اب کس منہ سے حاضر ہوؤں،یہ غیرت قوت ایمان کی علامت ہے۔
۴
؎حضرت سعد ابن معاذ جناب ثابت کے پڑوسی اور ان کی قوم سے تھے انہیں ثابت کے حالات کی زیادہ خبر ہونی چاہیے تھی اس لیے حضور نے آپ سے پوچھا۔خیال رہے کہ سعد ابن معاذ ۵ھ؁ ∞میں وفات پا گئے اور سورۂ حجرات ۹ ہجری میں نازل ہوئی تو یہ واقعہ کیونکر درست ہوا لہذا حق یہ ہے کہ اس سورت کی اگلی آیات"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللهِ وَ رَسُوۡلِہٖ"بعد میں نازل ہوئیں"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ"پہلے نازل ہوچکی تھی۔(مرقات)
۵
؎یعنی اس آیت کریمہ کے حکم سے میں دوزخی ہوں تو اس جنتیوں کے بادشاہ عالم پناہ کی بارگاہ میں کس منہ سے جاؤں، نار نور کے پاس کیسے جائے یہ ہے انتہائی خوفِ الٰہی کیونکہ اس آیت کریمہ میں بے ادبی سے اونچی آواز سے بولنا مراد ہے جو چیخ کر بولنے کا عادی ہو وہ مراد نہیں،حضور کی بے ادبی کفر ہے اور کفر آگ کا موجب ہے۔(مرقات)
۶
؎یعنی اس خوف کی وجہ سے ان کے ایمان کی رجسٹری ہوگئی کہ انہوں نے انتہائی خوف سے اپنے آپ کو اس آیت کی زد میں محسوس کیا۔سبحان الله!حضرت ثابت ابن قیس کی شہادت یوں ہوئی کہ غزوہ یمامہ میں جو مسیلمہ کذاب کے مقابل خلافت صدیقی ۱۲ھ؁ ∞میں ہوا جہاد کے وقت آپ نے کفن پہنا،خوشبو ملی،پھر میدان جنگ میں داخل ہوئے اعلٰی درجہ کا جہاد کیا اور شہید ہوئے رضی الله عنہ۔(مرقات)حضور کے فرمان کا یوں ظہور ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6211