Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6220

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللّٰهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ» يَعْنِي الأَنْصَارَ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيانا ونساء مقبلين من عرس فقام النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «اللهم أنتم من أحب الناس إلي اللهم أنتم من أحب الناس إلي» يعني الأنصار.(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم کھڑے ہوگئے ۱∞؎فرمایا الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ انصاری لوگ ایک شادی سے خوش و خرم آرہے تھے حضور ان کو خوش دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور ان کی خوش خرمی کھڑے ہوکر ملاحظہ فرمانے لگے جیسے ماں باپ اپنی اولاد کی خوشی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں حضور پر تمام جہان کے ماں باپ کی محبتیں قربان ہوں،وہ امت خصوصًا انصار کی خوشی دیکھ کر کیوں خوش نہ ہوں گے،حضور ہماری خوش خرمی سے خوش ہوتے ہیں، ہمارے رنج و ملال سے غمگین ہوتے ہیں"عَزِیۡزٌ عَلَیۡهِ مَاعَنِتُّمْ"حضور انور نے خواب میں اپنی امت کو سمندر کا سفر کرتے دیکھا نہایت شان و شوکت سے تو حضور خوش خوش بیدار ہوئے تھے۔
۲
؎اس کلام میں التفات ہے پہلے رب تعالٰی سے عرض کیا کہ الٰہی تو گواہ رہ یا اے الله تو جانتا ہے،پھر انصار سے خطاب فرمایا کہ تم لوگ مجھے بہت پیارے ہو۔انصار فرماکر راوی نے یہ بتایا کہ یہ کلام صرف ان لوگوں سے نہیں تھا بلکہ سارے انصار سے تھا یعنی سارے انصار مجھے بہت پیارے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6220