Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6227

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا قَالَ: " فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ:ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا"وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدُ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن حفصة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«إني لأرجو أن لا يدخل النار إن شاء الله أحد شهد بدرا والحديبية» قلت: يا رسول الله أليس قد قال الله تعالى: وإن منكم إلا واردها قال: " فلم تسمعيه يقول:ثم ننجي الذين اتقوا"وفي رواية:«لا يدخل النار إن شاء الله من أصحاب الشجرة أحد الذين بايعوا تحتها» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حفصہ ۱∞؎سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ امید کرتا ہوں کہ جو بدر یا حدیبیہ میں حاضر ہوا وہان شاءاللهدوزخ میں نہ جاوے گا ۲؎میں بولی یا رسول الله کیا رب تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ تم میں کوئی نہیں مگر دوزخ پر ضرور وارد ہوگا۳؎فرمایا تو کیا تم نے نہیں سنا کہ فرماتا ہے پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۴؎اور ایک روایت میں ہے کہان شاءاللهکوئی وہ شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی شجرہ والوں میں سے وہ دوزخ میں نہ جائے گا ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جناب حفصہ بنت عمر فاروق زوجہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہیں ہم سارے مسلمانوں کی ماں رضی الله عنہا،آپ کے حالات بیان ہوچکے۔
۲
؎حضور انور کا یہ فرمان کہ میں امید کرتا ہوں بالکل یقین کے لیے ہے اوران شاءاللهفرمانا شک کے لیے نہیں بلکہ یا برکت کے لیے ہے،یا اس کے معنی ہیں الله کے فضل سے جیسے رب فرماتاہے:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللهُ"۔اہل بدر اور اصحاب حدیبیہ یقینًا جنتی ہیں ان کا ایمان،تقویٰ،خاتمہ بالخیر،حساب قبر میں کامیابی،حساب حشر میں سرخروئی،پل طراط سے بخیریت گزر جانا سب کچھ رجسٹری شدہ ہے۔
۳
؎ام المؤمنین حفصہ سمجھیں کہ آیتِ کریمہ میں لفظواردھابمعنیداخلھاہے اس لیے آپ نے یہ سوال فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ ہرشخص کو دوزخ میں ضرور جانا پڑے گا۔
۴
؎خلاصہ یہ ہے کہ دوزخ جنت کے راستہ میں ہے لہذا جنت کو جاتے ہوئے وہاں سے مؤمنوں کو بھی گزرنا پڑے گا، کفار تو اس پل سے گر کر آگ میں داخل ہوجائیں گے مؤمنین بخیریت وہاں سے گزر جائیں گے۔
۵
؎خیال رہے کہ اس بیعت کے موقعہ پر حضرت عثمان غنی حضور کے بھیجے ہوئے نمائندہ رسول بن کر مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے صلح کی بات چیت کرنے،حضور نے اپنے ایک ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور دوسرے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ محمد کا ہاتھ ہے میں خود عثمان کی طرف سے بیعت لے رہاہوں لہذا وہ بہ طریق احسن اس بیعت میں شریک تھے۔اس غیر حاضری پر کروڑوں حاضریاں قربان ہو،بیعت الرضوان میں حضرت خضر و الیاس علیہما السلا م بھی شریک تھے جیساکہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6227