- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6256
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6256
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهٗ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهٗ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكٰى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهٗ وَقَالَ: «مَنْ عَادٰى عَمَّارًا عَادَاهُ اللّٰهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللّٰهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَى عَمَّارٍ فَلَقِيتُهٗ بِمَا رَضِيَ فَرَضِيَ .
وعن خالد بن الوليد قال: كان بيني وبين عمار بن ياسر كلام فأغلظت له في القول فانطلق عمار يشكوني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء خالد وهو يشكوه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: فجعل يغلظ له ولا يزيده إلا غلظة والنبي صلى الله عليه وسلم ساكت لا يتكلم فبكى عمار وقال: يا رسول الله ألا تراه؟ فرفع النبي صلى الله عليه وسلم رأسه وقال: «من عادى عمارا عاداه الله ومن أبغض عمارا أبغضه الله» . قال خالد: فخرجت فما كان شيء أحب إلي من رضى عمار فلقيته بما رضي فرضي .
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میرے اور عمار ابن یاسر کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تو میں نے گفتگو میں ان پر بہت سختی کی۲؎عمار میری شکایت کرنے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گئے پھر خالد پہنچے۳؎فرمایا عمار نبی صلی الله علیہ و سلم سے شکایت کر رہے تھے تو خالد ان پر بہت سختی کرنے لگے۴؎ان کی سختی بڑھتی گئی نبی صلی الله علیہ و سلم خاموش تھے۵؎کچھ کلام نہیں فرماتے تھے جناب عمار رونے لگے۶؎بولے یارسول الله کیا حضور خالد کو دیکھتے نہیں ۷؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو عمار سے دشمنی کرے خدا اس سے دشمنی کرے اور جو عمار سے بغض رکھے خدا اس سے ناراض ہو۸؎خالد فرماتے ہیں کہ پھر میں نکلا تو مجھے حضرت عمار کی خوشنودی سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہ تھی ۹؎پھر میں نے ان سے ان کی رضا کا برتاؤ کیا تو وہ راضی ہوگئے ۱۰؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ مخزومی ہیں،آپ کی والدہ لبانہ صغریٰ ہیں یعنی حضرت ام المؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ،زمانہ جاہلیت میں قریش کے سردار تھے، حضور انور نے آپ کو لقب سیف الله دیا، ۲ ۱ ∞ اکیس میں وفات ہوئی،مقام حمص شام میں آپ کا مزار ہے،عبدالله ابن عباس آپ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔(اکمال،مرقات)
۲؎یہاں سختی سے مراد گالی یا تہمت نہیں ہے بلکہ سخت آواز سے بات کرنا مراد ہے جیسے کہ غصہ میں ہوا کرتا ہے کہ آواز اور طرح کی نکلتی ہے،یہ جھگڑا کسی ذاتی معاملہ میں ہوا ہوگا نہ کہ دینی مسئلہ میں۔
۳؎یہ قول یا تو کسی راوی کا ہے کہ خالد آئے یا خود خالد ہی کا ہے رضی الله عنہ کہ اپنا نام لے کر بیان کیا یہ نہ فرمایا کہ میں آیا۔
۴؎یعنی حضرت خالد جوش غصہ میں حضور انور کے سامنے جناب عمار پر سختی کرنے ان سے غصہ سے کلام کرنے لگے ابھی دربار عالی سے واقف نہ تھے یا اسوقت تک آداب آستانہ کی آیات نہ آئی تھیں اس لیے آپ پر بے ادبی کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔
۵؎حضور انور نے اس خاموشی میں بہت کچھ فرمادیا تھا جسے حضرت خالد نہ سمجھ سکے غصہ کی وجہ سے۔حضور کی اداؤں میں تأمل اور غور سکون قلب سے ہی ہوسکتا ہے الله تعالٰی وہ سکون قلب نصیب کرے جو حضور کی اداؤں تک پہنچائے۔
۶؎حضرت عمار اپنی بے بسی جناب خالد کی سختی حضور صلی الله علیہ و سلم کی خاموشی ان تینوں کو دیکھ کر رو پڑے پس رونے ہی کی دیر تھی دریائے رحمت جوش میں آگیا۔مولانا فرماتے ہیں؎تانہ گرید ابر کے خند و چمن تانہ گرید طفل کے جوشد لبن
زور رابگزار زاری رابگیر رحم سوئے زاری آید اے فقیر
۷؎یعنی حضور کیا میری بے بسی اور خالد کی سختی پر توجہ نہیں فرماتے یہاں دیکھنے سے مراد توجہ فرمانا ہے۔
۸؎قربان ان اداؤں کے ایک دعا میں سب کچھ فرمادیا حضرت خالد کا غصہ ٹھنڈا کردیا،عمار کا طرہ آفتاب تک پہنچادیا،دونوں کے دلوں کو ملادیا،جناب عمار کا درجہ اور مقام سمجھا دیا اس کا نتیجہ وہ ہوا جو آگے مذکور ہے۔
۹؎یعنی حضور کی اس دعا شریف سے میرے دل کی دنیا بدل گئی اس دل میں عمار کی محبت عزت و عظمت بھر گئی آپ اس مجلس پاک سے اٹھے بھی اس لیے کہ حضرت عمار کو علیحدگی میں بلا کر معافی مانگ لیں اپنی گزشتہ کوتاہی کا کفارہ کرلیں رضی الله عنہما،اب حضرت خالد کو جناب عمار سب سے زیادہ محبوب ہوگئے انہیں راضی کرنے کو اولین فرض سمجھنے لگے۔
۱۰؎چنانچہ حضرت خالد ان کے سینے سے لپٹ گئے ان سے معافی مانگی ان کے سامنے بہت ہی تواضع کی اور جس قدر اسباب رضا ہوسکتے تھے وہ سب جمع کرکے انہیں منالیا۔خیال رہے کہ آخرکار حضرت عمار جناب علی کے ساتھ تھے اور جماعت امیر معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے مگر امیر معاویہ اس حدیث کی زد میں نہیں آتے کیونکہ وہاں اختلاف رائے تھا عداوت نہ تھی جیسے برادران یوسف علیہ السلام اور حضرت سارہ زوجہ ابراہیم علیہ السلام کہ انہیں حضرت یوسف علیہ السلام سے یا بی بی ہاجرہ سے اختلاف تھا بغض نہ تھا نہ عداوت تھی۔یہ بات یاد رکھو یہاں دنیا میں تو حضور دلوں کی دنیا بدل دیتے ہیں قیامت کا نقشہ بھی حضور کے دم سے بدل جائے گا۔شعر
ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا
اوڑھ کر کالا کمبل وہ آجائیں گے حشر کا سارا نقشہ بدل جائے گا
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6256