Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6256

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهٗ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهٗ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكٰى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهٗ وَقَالَ: «مَنْ عَادٰى عَمَّارًا عَادَاهُ اللّٰهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللّٰهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَى عَمَّارٍ فَلَقِيتُهٗ بِمَا رَضِيَ فَرَضِيَ .

وعن خالد بن الوليد قال: كان بيني وبين عمار بن ياسر كلام فأغلظت له في القول فانطلق عمار يشكوني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء خالد وهو يشكوه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: فجعل يغلظ له ولا يزيده إلا غلظة والنبي صلى الله عليه وسلم ساكت لا يتكلم فبكى عمار وقال: يا رسول الله ألا تراه؟ فرفع النبي صلى الله عليه وسلم رأسه وقال: «من عادى عمارا عاداه الله ومن أبغض عمارا أبغضه الله» . قال خالد: فخرجت فما كان شيء أحب إلي من رضى عمار فلقيته بما رضي فرضي .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میرے اور عمار ابن یاسر کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تو میں نے گفتگو میں ان پر بہت سختی کی۲؎عمار میری شکایت کرنے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گئے پھر خالد پہنچے۳؎فرمایا عمار نبی صلی الله علیہ و سلم سے شکایت کر رہے تھے تو خالد ان پر بہت سختی کرنے لگے۴؎ان کی سختی بڑھتی گئی نبی صلی الله علیہ و سلم خاموش تھے۵؎کچھ کلام نہیں فرماتے تھے جناب عمار رونے لگے۶؎بولے یارسول الله کیا حضور خالد کو دیکھتے نہیں ۷؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو عمار سے دشمنی کرے خدا اس سے دشمنی کرے اور جو عمار سے بغض رکھے خدا اس سے ناراض ہو۸؎خالد فرماتے ہیں کہ پھر میں نکلا تو مجھے حضرت عمار کی خوشنودی سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہ تھی ۹؎پھر میں نے ان سے ان کی رضا کا برتاؤ کیا تو وہ راضی ہوگئے ۱۰؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ مخزومی ہیں،آپ کی والدہ لبانہ صغریٰ ہیں یعنی حضرت ام المؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ،زمانہ جاہلیت میں قریش کے سردار تھے، حضور انور نے آپ کو لقب سیف الله دیا، ۲ ۱؁ ∞ اکیس میں وفات ہوئی،مقام حمص شام میں آپ کا مزار ہے،عبدالله ابن عباس آپ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔(اکمال،مرقات)
۲
؎یہاں سختی سے مراد گالی یا تہمت نہیں ہے بلکہ سخت آواز سے بات کرنا مراد ہے جیسے کہ غصہ میں ہوا کرتا ہے کہ آواز اور طرح کی نکلتی ہے،یہ جھگڑا کسی ذاتی معاملہ میں ہوا ہوگا نہ کہ دینی مسئلہ میں۔
۳
؎یہ قول یا تو کسی راوی کا ہے کہ خالد آئے یا خود خالد ہی کا ہے رضی الله عنہ کہ اپنا نام لے کر بیان کیا یہ نہ فرمایا کہ میں آیا۔
۴
؎یعنی حضرت خالد جوش غصہ میں حضور انور کے سامنے جناب عمار پر سختی کرنے ان سے غصہ سے کلام کرنے لگے ابھی دربار عالی سے واقف نہ تھے یا اسوقت تک آداب آستانہ کی آیات نہ آئی تھیں اس لیے آپ پر بے ادبی کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔
۵
؎حضور انور نے اس خاموشی میں بہت کچھ فرمادیا تھا جسے حضرت خالد نہ سمجھ سکے غصہ کی وجہ سے۔حضور کی اداؤں میں تأمل اور غور سکون قلب سے ہی ہوسکتا ہے الله تعالٰی وہ سکون قلب نصیب کرے جو حضور کی اداؤں تک پہنچائے۔
۶
؎حضرت عمار اپنی بے بسی جناب خالد کی سختی حضور صلی الله علیہ و سلم کی خاموشی ان تینوں کو دیکھ کر رو پڑے پس رونے ہی کی دیر تھی دریائے رحمت جوش میں آگیا۔مولانا فرماتے ہیں؎تانہ گرید ابر کے خند و چمن تانہ گرید طفل کے جوشد لبن
زور رابگزار زاری رابگیر رحم سوئے زاری آید اے فقیر
۷
؎یعنی حضور کیا میری بے بسی اور خالد کی سختی پر توجہ نہیں فرماتے یہاں دیکھنے سے مراد توجہ فرمانا ہے۔
۸
؎قربان ان اداؤں کے ایک دعا میں سب کچھ فرمادیا حضرت خالد کا غصہ ٹھنڈا کردیا،عمار کا طرہ آفتاب تک پہنچادیا،دونوں کے دلوں کو ملادیا،جناب عمار کا درجہ اور مقام سمجھا دیا اس کا نتیجہ وہ ہوا جو آگے مذکور ہے۔
۹
؎یعنی حضور کی اس دعا شریف سے میرے دل کی دنیا بدل گئی اس دل میں عمار کی محبت عزت و عظمت بھر گئی آپ اس مجلس پاک سے اٹھے بھی اس لیے کہ حضرت عمار کو علیحدگی میں بلا کر معافی مانگ لیں اپنی گزشتہ کوتاہی کا کفارہ کرلیں رضی الله عنہما،اب حضرت خالد کو جناب عمار سب سے زیادہ محبوب ہوگئے انہیں راضی کرنے کو اولین فرض سمجھنے لگے۔
۱۰
؎چنانچہ حضرت خالد ان کے سینے سے لپٹ گئے ان سے معافی مانگی ان کے سامنے بہت ہی تواضع کی اور جس قدر اسباب رضا ہوسکتے تھے وہ سب جمع کرکے انہیں منالیا۔خیال رہے کہ آخرکار حضرت عمار جناب علی کے ساتھ تھے اور جماعت امیر معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے مگر امیر معاویہ اس حدیث کی زد میں نہیں آتے کیونکہ وہاں اختلاف رائے تھا عداوت نہ تھی جیسے برادران یوسف علیہ السلام اور حضرت سارہ زوجہ ابراہیم علیہ السلام کہ انہیں حضرت یوسف علیہ السلام سے یا بی بی ہاجرہ سے اختلاف تھا بغض نہ تھا نہ عداوت تھی۔یہ بات یاد رکھو یہاں دنیا میں تو حضور دلوں کی دنیا بدل دیتے ہیں قیامت کا نقشہ بھی حضور کے دم سے بدل جائے گا۔شعر
ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا
اوڑھ کر کالا کمبل وہ آجائیں گے حشر کا سارا نقشہ بدل جائے گا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6256