Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6216

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْأَنْصَارُ لَايُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللّٰهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللّٰهُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الأنصار لايحبهم إلا مؤمن ولا يبغضهم إلا منافق فمن أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق ۱؎تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انصار سے وہ ہی محبت کرے گا جو کامل مؤمن ہوگا اور انصار سے بغض وہ ہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی منافق ہو گا،ایمان دل میں ہے مگر اس کی علامات ظاہری جسم میں موجود ہیں۔
۲
؎یہ کلمات دعا اور بدعا کے ہیں یعنی اے الله انصار کے محبین سے تو محبت فرما اور انصار کے دشمنوں سے تو دشمنی فرما۔ اس سے روافض زمانہ عبرت حاصل کریں۔خیال رہے کہ یہاں دینی محبت و عداوت مراد ہے،خیال رہے کہ انصار کا نام پہلے ابناء قبلہ تھا،قبلہ ان کی مورث اعلٰی تھیں جن میں اوس و خزرج دونوں جمع ہوجاتے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نام انصار رکھا رب تعالٰی کو یہ نام قبول ہوا اس نے بھی انہیں اسی نام سے یاد فرمایا"مِنَ الْمُہٰجِرِیۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ"جیسے مدینہ منورہ کا نام پہلے یثرب تھا حضور نے اس کا نام مدینہ رکھا قرآن مجید نے بھی اسے مدینہ ہی فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6216