Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6202

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِؤُوْنَ عَلَيْنَا. قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلَالٌ وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهٗ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن سعد قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ستة نفر فقال المشركون للنبي صلى الله عليه وسلم : اطرد هؤلاء لا يجترؤون علينا. قال: وكنت أنا وابن مسعود ورجل من هذيل وبلال ورجلان لست أسميهما فوقع في نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقع فحدث نفسه فأنزل الله تعالى: ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ ان کو نکال دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں ۱∞؎فرماتے ہیں کہ وہ چھ آدمی میں اور ابن مسعود اور ہذیل کے ایک صاحب اور بلال اور دو شخص اور تھے جن کا نام نہیں لیتا۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے دل میں وہ بات آئی جو رب نے چاہا حضور نے دل میں کچھ سوچا ۳؎تب الله نے یہ آیت اتاری اور آپ انہیں نہ نکالیں جو شام سویرے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر ان چھ فقراء ومساکین کے ہوتے ہوئے ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو ان کو ہم سے برابر ہمسری کرنے کی جرأت ہو جائے گی لہذا پہلے ان لوگوں کو اپنے سے ہٹا دیں پھر ہم آپ کی مجلس میں حاضر ہوں گے آپ کا کلام سنیں گے، اگر دل نے مانا تو اسلام قبول کرلیں گے۔
۲
؎غالبًا وہ حضرات حضرت خباب اور عمارہ ہیں کسی مصلحت سے ان کا نام نہیں لیا۔خیال رہے کہ حضرت خباب ابن ارت تمیمی ہیں،حضور کے دار ارقم میں جانے سے پہلے اسلام لائے،الله کی راہ میں بہت ستائے گئے آخر میں کوفہ میں رہے،وہاں ہی وفات پائی، ۳۷؁ ∞میں تہتّر سال عمر ہوئی۔(مرقات)
۳
؎یعنی آپ کے دل میں خیال گزرا کہ ایک خاص وقت ان سرداروں کے لیے خاص کردیا جائے کہ اس وقت کوئی مسکین موجود نہ ہو اور سرداروں کو تبلیغ کی جاوے۔ممکن ہے کہ یہ مسلمان ہوجاویں اسلام قبول کرلینے پر ان کے دل سے تکبروغرور نکل جائے گا یہ خیال کوئی برا نہ تھا بلکہ تبلیغ اسلام کے لیے تھا۔
۴
؎یعنی اے محبوب ان مساکین غرباء کو اپنی کسی مجلس سے علیحدہ نہ کرو ہر وقت انہیں حاضری کی اجازت دو یہ لوگ دن رات یعنی ہمیشہ مجھے یاد کرتے ہیں دنیاوی لالچ سے نہیں بلکہ صرف میری رضا کے لیے۔اس فرمان عالی میں ان بزرگوں کے ایمان، اخلاص،تقویٰ و طہارت کی گواہی دی گئی۔خیال رہے کہ لفظ مرید یہاں سے ہی لیا گیا ہے یعنی الله کی رضا کا ارادہ کرنے والا،یریدون وجھہسے لفظ مرید مشتق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6202