Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6262

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ:نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ هٰذَايَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ:«نِعْمَ عَبْدُ اللّٰهِ هٰذَا » وَيَقُولُ: «مَنْ هٰذَا ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: «بِئْسَ عَبْدُ اللّٰهِ هٰذَا » حَتّٰى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: «مَنْ هٰذَا ؟» فَقُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ. فَقَالَ:«نِعْمَ عَبْدُ اللّٰهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال:نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا فجعل الناس يمرون فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم «من هذايا أبا هريرة؟» فأقول: فلان. فيقول:«نعم عبد الله هذا » ويقول: «من هذا ؟» فأقول: فلان. فيقول: «بئس عبد الله هذا » حتى مر خالد بن الوليد فقال: «من هذا ؟» فقلت: خالد بن الوليد. فقال:«نعم عبد الله خالد بن الوليد سيف من سيوف الله» رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ایک منزل میں اترے تو لوگ گزرنے لگے ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم پوچھنے لگے،اے ابوہریرہ یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو آپ فرماتے یہ اچھا بندہ ہے اور کہتے یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو فرماتے یہ برا بندہ ہے ۲؎حتی کہ خالدابن ولیدگزرے تو حضور نے فرمایا یہ کون ہے۳؎میں نے کہا کہ خالد ابن ولید ہیں تو فرمایا خالد ابن ولید اچھے بندے ہیں الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ یا تو فتح مکہ کے سفر کا ہے یا کسی دوسرے سفر کا کہ اس دوران میں ایک منزل پر نزول فرمایا اور یہ واقعہ پیش آیا۔
۲
؎خیال رہے کہ کسی کی برائی کرنا اس کے سامنے یا پیچھے جائز ہے جب کہ دوسرے کو اس کے فساد سے بچانا مقصود ہو محض گلہ مقصود نہ ہو،غیبت حرام ہے مگر غیبت میں چند شرطیں ہیں: مسلمان کی غیبت ہو اس کا چھپا ہوا عیب بیان کیا جاوے اور دلی غصہ و حسد کی بنا پر بیان ہو لہذا اس حدیث پاک پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ غیبت ہے۔
۲
؎حضور انور حضرت خالد ابن ولید کو پہچانتے ہیں مگر یہ سوال انہیں گواہ بنانے کے لیے ہے سوال کے بہت مقصد ہوتے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور خیمہ میں تھے حضرت ابوہریرہ باہر حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت خالد کی آہٹ سن کر یہ سوال کیا۔
۴
؎اس فرمان عالی کی شرح ابھی کچھ پہلے ہوچکی ہے۔بہت صحابہ الله کی تلوار ہیں ان میں سے حضرت خالد بھی ہیں جیسے اسد الله حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں اور جناب امیرحمزہ بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6262